.

ہم ایران کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں:سعودی وزیرخارجہ

فرانسیسی وزیرخارجہ کی سعودی عرب کی قیادت میں حوثی مخالف مہم کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہے۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران یمن میں حوثی باغیوں کی حمایت سے دستبردار ہوجائے گا۔

وہ دارالحکومت الریاض میں اتوار کو فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے 26 مارچ کو یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی دعوت پر حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔

انھوں نے کہا کہ یمن میں ایران کے کردار نے مسئلے کو بگاڑ دیا ہے اوراس کی وجہ سے ملک میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔شہزادہ سعود الفیصل نے کہا کہ ''ایران ہمیں یمن میں لڑائی ختم کرنے کے لیے کیسے کہہ سکتا ہے۔ہم یمن میں ایک مجاز اتھارٹی کے دفاع کے لیے گئے تھے اور ایران یمن کا داروغہ (انچارج) نہیں ہے''۔

سعودی وزیر خارجہ نے چھے بڑی طاقتوں کے اسی ماہ ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے تنازعے پر طے پائے فریم ورک سمجھوتے کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ خطے کی سکیورٹی میں اضافے کی جانب اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

اس موقع پر فرانسیسی وزیرخارجہ نے سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی مہم کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے تنازعے پر حالیہ فریم ورک سمجھوتے کے حوالے سے کہا کہ حتمی معاہدہ طے پانے سے قبل ابھی دو اہم نکات پر بات چیت ہونا ہے۔

انھوں نے شام میں جاری بحران کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زوردیا اور کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندہ حکومت کے قیام کی صورت ہی میں اس بحران کو طے کیا جاسکتا ہے۔

لوراں فابیئس ہفتے کی رات دارالحکومت الریاض پہنچے تھے اور انھوں نے اتوار کو سعودی قیادت سے ملاقات میں یمن کی صورت حال اور دوسرے علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ''یمن کے حوالے سے ہم یہاں سعودی حکام کی خاص طور پر سیاسی حمایت کے لیے آئے ہیں''۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے بات چیت کی جانی چاہیے۔

قبل ازیں ان کے ہم سفر وفد کے ایک رکن نے کہا کہ ''فابیئس سعودی میزبانوں کے ساتھ ملاقات میں یہ واضح کریں گے کہ فرانس فطری طور پر یمن میں حالات معمول پر لانے کے لیے اپنے علاقائی شراکت دار کے ساتھ ہے''۔

واضح رہے کہ فرانس سعودی عرب اور امریکا کی طرح صدر عبد ربہ منصور ہادی ہی کو یمن کا حقیقی اور جائز حکمران تسلیم کرتا ہے اور اس نے یمن میں ماضی میں القاعدہ کے خلاف امریکا کے ڈرون حملوں کی بھی حمایت کی تھی۔

امریکا یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں ''آپریشن فیصلہ کن طوفان'' کے لیے انٹیلی جنس معلومات فراہم کررہا ہے اور اس نے دوران پرواز سعودی طیاروں میں ایندھن بھرنے کا کام بھی شروع کردیا ہے جبکہ فرانس نے ابھی تک سیاسی حمایت کے سوا کوئی عملی اقدام نہیں کیا ہے۔