.

ہلیری کلنٹن ''زبردست'' صدر ثابت ہوں گی: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے سنہ 2016ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے سابق خاتون اوّل ہلیری کلنٹن کی بطور امیدوار حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ملک کی زبردست صدر ثابت ہوں گی۔

ہلیری کلنٹن نے اتوار کو ایک ویڈیو کے ذریعے بطور امیدوار آیندہ صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔اس سے ایک روز قبل براک اوباما نے پاناما سٹی میں امریکی سمٹ کے موقع پر نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''وہ سنہ 2008ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے موقع پر بھی ایک نمایاں امیدوار تھیں۔انھوں نے عام انتخابات میں میری بڑی حمایت کی تھی۔وہ امریکا کی ایک غیر معمولی وزیرخارجہ رہی تھیں۔وہ میری دوست ہیں۔میرے خیال میں وہ ایک شاندار صدر ثابت ہوں گی''۔

انھوں نے کہا کہ ''جب ہلیری کلنٹن صدارتی انتخاب لڑنے کا عام اعلان کریں گی تو ملک کو آگے لے جانے کے حوالے سے وہ بہت واضح ہوں گی''۔صدر اوباما نے اپنی سابقہ حریف صدارتی امیدوار کی اپنے پہلے دور حکومت میں بطور وزیرخارجہ کارکردگی کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ ''وہ خارجہ پالیسی سے متعلق امور کو بہ ذات خود بہتر طور پر انجام دے سکیں گی اور داخلی پالیسی سے متعلق بھی ان کا ٹریک ریکارڈ یہ ہے کہ وہ کام کرنے والے خاندانوں کا خیال رکھیں گی''۔

ہلیری کلنٹن ویڈیو اور سوشل میڈیا کے ذریعے بطور امیدوار صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرنے کے بعد آئیووا اور نیو ہمپشائر ریاستوں کے دورے پر روانہ ہونے والی ہیں جہاں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کے درمیان صدارتی امیدواروں کی نامزدگی کے لیے سب سے پہلے رائے شماری ہوگی۔امریکا کے موجودہ نائب صدر جو بائیڈن بھی صدارتی امیدوار بننے کے لیے پَر تول رہے ہیں لیکن صدر اوباما کی جانب سے ہلیری کلنٹن کی اس طرح واضح لفظوں میں حمایت کے بعد شاید وہ ڈیمو کریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کے لیے نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ہلیری کلنٹن جیت کی صورت میں امریکا کی پہلی خاتون صدر ہوں گی۔