.

طرابلس: داعش کا سفارت خانوں پر حملوں کا دعویٰ

جنوبی کوریا کے سفارت خانے پرحملہ، مراکشی ایمبیسی کے باہر دھماکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کی لیبیا میں شاخ نے دارالحکومت طرابلس میں مراکش اور جنوبی کوریا کے سفارت خانوں پر حملوں کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

طرابلس کے علاقے بن آشور میں واقع مراکش کے سفارت خانے کے بیرونی دروازے کے باہر سوموار کو علی الصباح بم دھماکا ہوا ہے۔اس سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے لیکن کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ہے۔اس سے چند گھنٹے قبل اتوار کو مسلح جنگجوؤں نے جنوبی کوریا کے سفارت خانے پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں دو مقامی محافظ ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔

سیول میں جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے بتایا تھا کہ حملے میں کسی کوریائی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ سفارت خانے میں دو سفارتی اہلکار اور ایک انتظامی عملےکا ایک رکن تعینات ہے اور انھیں وہاں سے منتقل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

داعش سے وفاداری کا اظہار کرنے والے جنگجوؤں نے سوموار کو ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں ان دونوں حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جاسکتی ہے۔

داعش کے جنگجو اس سال اب تک لیبیا میں غیرملکی سفارت خانوں اور غیر ملکیوں پر متعدد حملوں کی ذمے داری قبول کر چکے ہیں۔انھوں نے طرابلس کے ایک ہوٹل اور اکیس قبطی عیسائیوں کے سرقلم کرنے کی بھی ذمے داری قبول کی تھی۔

ان جنگجوؤں نے مصر اور الجزائر کے سفارت خانوں پر بھی حملے کیے تھے لیکن یہ سفارت خانے خالی ہونے کی وجہ سے کوئِی زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ لیبیا میں متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان لڑائی کے بعد سے بیشتر ممالک نے طرابلس میں واقع اپنے سفارت خانوں کو خالی کردیا ہے اور اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے یا پھر پڑوسی ملک تیونس میں منتقل کردیا ہے۔