.

'اقوام عالم کو غزہ محاصرہ ختم کروانا ہوگا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی امدادی گروپوں کے اتحاد کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں تباہ ہونے والے ہزاروں گھروں اور دکانوں کی تعمیر نو صحیح طریقے سے شروع بھی نہیں ہوسکی ہے اور ڈونر ممالک کی جانب سے 3٫5 ارب ڈالر امداد کے وعدوں کے مطابق محاصرے کے شکار علاقے میں حالات زندگی بدتر ہوتے جارہے ہیں۔

بین الاقوامی ڈیویلپمنٹ ایجنسیوں کی ایسوسی ایشن نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کے متعلق نئی حکمت عملی اختیار کریں جس میں اسرائیل پر غزہ کی سرحدوں سے محاصرہ اٹھانے کا دبائو ڈالا جائے۔ مصر اور اسرائیل نے 2007ء سے حماس کی حکومت کے قیام کے بعد غزہ کا محاصرہ کررکھا ہے۔

اس رپورٹ میں جو کہ 45 امدادی گروپوں کی جانب سے دستخط شدہ ہے، کہا گیا ہے کہ غزہ میں معاشی، سماجی اور سیاسی استحکام کے لئے غزہ کی سرحدوں کو کھول دیا جائے اور حماس-اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا پائیدار معاہدہ کیا جائے۔

سنہ 2014ء میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ غزہ کے 18 لاکھ باسیوں کے لئے سب سے تباہ کن جنگ تھی جس کے نتیجے میں 2200 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے تھے اور اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق ان میں زیادہ تعداد عام شہریوں کی تھی۔ اس جنگ میں 72 اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے جن مین سے 66 فوجی تھے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ غزہ میں 19000 گھر تباہ ہوگئے ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ ایک لاکھ 34 ہزار گھروں کو کچھ نقصان پہنچا ہے مگر وہ رہائش کے قابل ہیں۔ تقریبا ایک لاکھ لوگ بے گھر ہیں اور وہ اقوام متحدہ کی جانب سے فراہم کردہ خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

پچھلے سال اکتوبر کے دوران ڈونر ممالک نے غزہ کے لئے 3٫5 ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا تھا مگر ابھی تک اس میں سے صرف 945 ملین ڈالر ہی فراہم کئے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق "ڈونرز کانفرنس کے چھ ماہ بعد بھی غزہ میں کچھ معمولی تبدیلیاں ہی آسکی ہیں اور غزہ میں رہنے والے شہریوں کے حالات زندگی بدتر ہوتے جارہے ہیں۔"