.

شام میں 6 ہزار سے زیادہ یورپی جہادی موجود

مغربی جنگجوؤں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے: یورپی جسٹس کمشنر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے چھے ہزار سے زیادہ جنگجو مختلف جہادی گروپوں میں شامل ہو کر لڑ رہے ہیں۔

یہ اعداد وشمار یورپی یونین کی جسٹس کمشنر ورا جوریوا نے فرانسیسی اخبار لی فگارو کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران فراہم کیے ہیں۔ان کے بہ قول ''یورپی سطح پر ہمارا تخمینہ یہ ہے کہ پانچ سے چھے ہزار افراد شام گئے ہیں۔ان کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ غیر ملکی جنگجوؤں کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''پیرس اور کوپن ہیگن میں حملوں کے وقت ہم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم خوف کے سائے میں نہیں چلیں گے''۔وہ جنوری میں فرانسیسی دارالحکومت میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے ہفت روزہ اخبار چارلی ایبڈو پر دو بھائیوں کے حملے اور ڈنمارک میں ایک ثقافتی مرکز پر فائرنگ کا حوالہ دے رہی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ جہاد کی غرض سے شام جانے اور وہاں سے لوٹنے والوں پر بہت تاخیر سے توجہ مرکوز کی گئی ہے۔اس کے بجائے یورپی یونین نے یہ کوشش کی ہے کہ یورپی شہریوں کے ان کے آبائی ممالک سے انخلاء کو روکا جائے۔اس کےعلاوہ ذہب کے علاوہ لوگوں کی جہادی گروپوں میں شمولیت کی دیگر مختلف وجوہات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔

جسٹس کمشنر نے انٹرویو میں بتایا کہ برطانیہ میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں چند ایک اور وجوہات کی نشان دہی کی گئی ہے،ان میں مہم جوئی کی خواہش ،بوریت ،زندگی کے حالات سے عدم اطمینانی یا ترقی کے لیے پیش رفت نہ ہونا ان لوگوں کے شام جانے کی وجوہات ہوسکتی ہیں جو اپنے خاندانوں کو پیچھے ہی چھوڑ جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی پولیس فورس اور رکن ممالک کے عدالتی نظاموں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے عمل کو بھی تیز کیا جارہا ہے۔اس کے لیے انٹیلی جنس کے زیادہ تبادلے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی پولیس افسروں کی تنظیم کے سربراہ پیٹر فاہی نے چند ماہ قبل خبردار کیا تھا کہ شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف محاذ آراء باغیوں کی مدد کو جانے والے برطانوی شہریوں کو وطن واپسی پر گرفتار کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ملک کے لیے سکیورٹی خطرے کا موجب ہوسکتے ہیں۔

یورپی ممالک سے شام آنے والے جہادیوں کی ایک بڑی تعداد سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) یا القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کی صفوں میں شامل ہو کر صدر بشارالاسد کی وفادار فوج یا دوسرے مخالفین کے خلاف لڑرہی ہے لیکن ان میں سے زیادہ تر داعش ہی میں شامل ہیں جس نے گذشتہ سال جون سے شام کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرکے وہاں اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔