.

اقوام متحدہ:حوثیوں کے خلاف اسلحے کی پابندی عاید

معزول یمنی صدر کے بیٹے احمد صالح اورعبدالملک حوثی کے اثاثے منجمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن میں جاری خانہ جنگی کے مرکزی کردار حوثیوں کو اسلحہ فروخت کرنے یا مہیا کرنے پرپابندی عاید کردی ہے اور ملک کے معزول صدر علی عبداللہ صالح کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔

سلامتی کونسل کے چودہ رکن ممالک نے منگل کو اقوام متحدہ کے منشور کے باب سات کے تحت قرارداد نمبر 2216 کی متفقہ طور پر منظوری دی ہے جبکہ روس عرب ممالک کی جانب سے پیش کردہ قراداد پر رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہا ہے۔اس کا موقف تھا کہ اس کی مجوزہ ترامیم کو قرارداد میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

سلامتی کونسل نے منظور کردہ قرارداد کے ذریعے یمن کی سابق ایلیٹ ری پبلکن گارڈ کے سابق سربراہ احمد صالح اور حوثی گروپ کے سربراہ عبدالملک الحوثی کے دنیا بھر میں اثاثے منجمد کر لیے ہیں اور ان پر سفری پابندیاں عاید کردی ہیں۔سلامتی کونسل نے قبل ازیں نومبر2014ء میں حوثی گروپ کے دواور سینیر لیڈروں عبدالخالق الحوثی اور عبداللہ یحییٰ الحکیم کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔

قرارداد کے تحت پانچ افراد اور یمن میں ان کی ہدایات یا احکامات پر چلنے والے دوسرے افراد پر اسلحے کی پابندی عاید کی گئی ہے۔اس پابندی کا اطلاق حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفاداروں پر ہوگا۔

قرارداد میں حوثیوں سے لڑائی بند کرنے اور دارالحکومت صنعا سمیت اپنے زیر قبضہ علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے اقدامات اور حوثیوں کی کارروائیوں کی حمایت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ میں متعیّن امریکی سفیر اسمنتھا پاورز نے کہا ہے کہ امریکا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے اور ان کی کارروائیوں ہی کے نتیجے میں ملک عدم استحکام سے دوچار ہوگیا ہے۔

سلامتی کونسل میں قطر کی سفیر شیخہ عالیہ بنت احمد بن سیف آل ثانی کا قرارداد کی منظوری کے بعد کہنا تھا کہ اب حوثیوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ فوری طورپر اپنی کارروائیوں سے باز آجائیں۔

اقوام متحدہ میں سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے قرارداد کو یمنی عوام کی فتح قراردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کے مسودے سے واضح ہے کہ یمن میں حوثیوں کے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔یمن میں زمینی فوج بھیجنے سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے فیصلہ کرنا فوجی کمانڈروں کا کام ہے۔