.

اقوام متحدہ کی شام مذاکرات کی بحالی کے لیے نئی کوشش

تنازعے کے تمام فریقوں سمیت ایران کو بھی مذاکرات کی دعوت دی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے شام میں گذشتہ چار سال سے جاری بحران کے حل کی غرض سے مذاکرات کا نیا دور شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔اس سلسلے میں وہ تنازعے کے تمام دھڑوں اور اس معاملے میں دلچسپی رکھنے والے ممالک سے مشاورت کریں گے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان احمد فوزی نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اسٹافن ڈی مستورا جنیوا اول کے اعلامیے کی بنیاد پر امن مذاکرات کی بحالی کے لیے مشاورت کر رہے ہیں۔

شام میں جاری بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی امن بات چیت گذشتہ سال معطل ہوگئی تھی۔برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے سوموار کو یہ اطلاع دی تھی کہ ڈی مستورا سیاسی عمل شروع کرنے کے لیے نئی مشاورت کی تیاری کررہے ہیں۔

احمد فوزی کا کہنا تھا کہ ڈی مستورا جنیوا اعلامیے کو شام کے تمام فریقوں اورعلاقائی اور بین الاقوامی ایکٹروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد دوبارہ ''فعال'' کرنا چاہتے ہیں۔یہ مشاورتی عمل مئی سے شروع ہوگا۔ترجمان نے بتایا ہے کہ یہ مشاورتی بات چیت جنیوا میں ہوگی لیکن اس کے کسی فریق کو ابھی تک کوئی دعوت نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کو بھی اس مشاورتی عمل کے لیے مدعو کیا جائےگا۔شام کے بارے میں مذاکرات کے سابقہ ادوار میں ایران کی شرکت متنازعہ رہی ہے۔تاہم بعض سفارت کار ایران کو شام سے کسی بھی ڈیل کا ناگزیر حصہ قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ صدر بشارالاسد کا سب سے بڑا اتحادی ملک ہے۔

سنہ 2012ء میں جنیوا میں امن مذاکرات کے موقع پر امریکا نے ایران کی شرکت پر اعتراض کیا تھا۔مذاکرات کے اسی دور میں جنیوا اعلامیہ معرض وجود میں آیا تھا جس میں تنازعے کے حل کے لیے بات چیت پر زوردیا گیا تھا۔تاہم اس میں صدر بشارالاسد کی رخصتی کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کہا گیا تھا۔

امریکا اور ایران کے درمیان شام میں جاری خانہ جنگی کے حوالے سے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔امریکا شامی باغیوں کی امداد کررہا ہے جبکہ ایران صدر بشارالاسد کی حکومت کا پشتی بان ہے۔تاہم اب دونوں ممالک کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر طے پائے عبوری سمجھوتے کی وجہ سے اختلافات کی خلیج کافی کم ہوئی ہے۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سمجھوتے کے بعد شامی بحران کے حل کے لیے مستقبل میں ہونے والے مذاکرات میں بھی مدد مل سکے گی۔