.

ایران کا یمن میں قیامِ امن کے لیے چار نکاتی منصوبہ

جنگ بندی کے بعد تمام فریق مذاکرات کے ذریعے قومی حکومت قائم کریں:جواد ظریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے یمن میں قیام امن کے لیے ایک چار نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔اس میں یمن میں فوری جنگ بندی پر زور دیا گیا ہے اور اس کے بعد تمام فریقوں کے درمیان غیرملکیوں کی ثالثی میں مذاکرات کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے منگل کے روز سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں نیوز کانفرنس میں اس مجوزہ منصوبے کے خدوخال بیان کیے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''میں نے جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔اس کے بعد یمن کے تمام فریقوں کے درمیان مذاکرات ہونے چاہیئں اور ان میں دوسروں کو سہولت کنندہ کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ان کے نتیجے میں یمن میں ایک وسیع البنیاد قومی حکومت قائم کی جائے''۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پریس ٹی وی نے قبل ازیں یہ اطلاع دی ہے کہ ایران یمن میں جاری بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ میں بدھ کو ایک چار نکاتی امن منصوبہ پیش کرے گا۔

انگریزی زبان میں نشریات پیش کرنے والے اس سرکاری ٹی وی چینل نے اس مجوزہ منصوبے کی مزید تفصیل بیان نہیں کی ہے لیکن وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس کے چار نکات یہ بیان کیے ہیں:اول،تمام فریقوں میں جنگ بندی ہونی چاہیے۔دوم،جنگ سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد بہم پہنچائی جائے۔سوم،تمام یمنی دھڑوں کے درمیان مذاکرات ہونے چاہیئں اور چہارم ،ایک وسیع البنیاد حکومت قائم کی جائے۔

ایرانی وزیرخارجہ مختلف ملکوں کے دورے پر ہیں اور وہ عالمی رہ نماؤں سے اپنے ملک کے چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پائے عبوری فریم ورک سمجھوتے کےعلاوہ یمن میں جاری بحران پر بات چیت کررہے ہیں۔

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے گذشتہ روز ایک مضمون میں ایران پر سیدھے سبھاؤ اپنے ملک میں مداخلت اور حوثی باغیوں کی کھلم کھلا مالی اور عسکری امداد کا الزام عاید کیا ہے جبکہ ایران اس الزام کی تردید کرتا چلا آرہا ہے لیکن وہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سفارتی محاذ پر حوثیوں کی وکالت بھی کررہا ہے اور ان کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں دس ملکی اتحاد کے فضائی حملوں کی شدید مخالفت کررہا ہے۔

حوثیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر گذشتہ سال ستمبر سے قبضہ کررکھا ہے۔انھوں نے ملک کے منتخب صدر منصور ہادی اور متفقہ وزیراعظم خالد بحاح کو معزول کرکے خود ہی تمام اختیارات سنبھال لیے تھے اور اس کے بعد ملک کے جنوبی شہر عدن اور دوسرے علاقوں کی جانب چڑھائی کردی تھی۔ان کے توسیع پسندانہ عزائم کے پیش نظر یمنی صدر نے اقوام متحدہ اور عرب لیگ سے ملک میں فوجی مداخلت کی اپیل کی تھی۔

ان کی درخواست پر سعودی عرب کے لڑاکا طیارے یمن میں حوثی باغیوں اور ان کی اتحادی ملیشیاؤں کے خلاف 26 مارچ سے فضائی حملے کررہے ہیں۔فضائی بمباری میں حوثیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ان کی شہروں پر قبضے اور زیادہ سے زیادہ علاقوں کو اپنے زیرنگیں لانے کے لیے پیش قدمی بھی رُک چکی ہے۔