.

پاکستانی علاقے میں سیکیورٹی فراہمی کی ایرانی پیشکش!

'ایرانی سرحدی علاقوں پر اسلام آباد اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ تہران نے اسلام آباد کو تجویز دی ہے کہ ’ایران پاکستان کے کچھ حصوں میں سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے‘۔

تہران میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیں واضح طور پر بتایا ہے کہ ایرانی سرحد کے قریب واقع کچھ پاکستانی علاقوں پر حکومتِ پاکستان کی رٹ نہیں ہے۔عبدالرضا رحمانی فضلی نے سرحد پر مشترکہ گشت کی بھی تجویز دی ہے۔

خیال رہے کہ 7 اپریل کو پاک-ایران کی سرحد پر شدت پسندوں کے ایک حملے میں آٹھ ایرانی سرحدی محافظ مارے گئے تھے جس کے بعد ایرانی حکومت نے الزام لگایا تھا کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے اور کارروائی کر کے واپس پاکستان چلے گئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری جیش العدل نامی تنظیم نے قبول کی تھی جس کے بارے میں تہران کا موقف رہا ہے کہ اس کے ٹھکانے پاکستان میں ہیں اور حکومتِ پاکستان تنظیم کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

واضع رہے کہ ایران کے صوبے سیستان اور پاکستان کے سرحدی صوبے بلوچستان میں ایرانی سکیورٹی اہلکاروں اور سمگلروں اور سنی باغی گروہوں کے درمیان کئی بار جھڑپیں ہو چکی ہیں اور سنہ 2013 میں بھی سنی عسکریت پسند گروپ جیش العدل نے ایک حملے میں 14 ایرانی سرحدی محافظوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ایسے واقعات کی وجہ سے حالیہ برسوں کے دوران ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار رہے ہیں۔