یمن: القاعدہ کا نظریاتی رہبر ڈرون حملے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

یمن میں القاعدہ کی شاخ نے اپنے سرکردہ نظریاتی رہ نما ابراہیم الربیش کی اسی ہفتے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ابراہیم الربیش دو روز قبل یمن کے جنوبی صوبے شبوہ میں ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ حملہ شبوہ کے کس علاقے میں کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے ابراہیم الربیش کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالرز مقرر کررکھی تھی۔انھیں امریکا کے جزیرے گوانتا نامو بے میں واقع بدنام زمانہ حراستی مرکز سے سنہ 2006ء میں رہا کیا گیا تھا۔

اس کے بعد وہ یمن میں القاعدہ میں شامل ہوگئے تھے۔انھیں اس گروپ کا مرکزی نظریاتی رہ نما خیال کیاجاتا تھا اور ان کی تحریریں اور خطبات جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی مطبوعات میں شائع کیے جاتے تھے۔

گذشتہ سال انھوں نے القاعدہ کی حریف سخت گیر جنگجو تنظیم دولت اسلامی (داعش) کے عراق اور شام کے ایک بڑے علاقے پر قبضے اور وہاں اس کی حکومت کے قیام کو سراہا تھا۔امریکی اور یمنی حکام نے دمِ تحریر القاعدہ کے اس لیڈر کی ہلاکت کی تصدیق یا تردید نہیں کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں