.

یمن سے متعلق قرارداد پرسلامتی کونسل میں رائے شماری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سلامتی کونسل میں یمن میں حوثی باغی گروپ اور سابق صدر علی عبداللہ صالح پر پابندیوں سے متعلق پیش کی گئی قرارداد پر آج رائے شماری ہو رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد میں حوثی گروپ کے سربراہ عبدالملک حوثی اور سابق صدرعلی عبداللہ صالح کے بیٹے اور ان کے حامیوں پر بھی پابندیاں عاید کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ یمن میں حوثیوں کو غیر مشروط طور پر حکومت کا کنٹرول آئینی صدر اور ان کی کابینہ کے حوالے کرنے اور حوثیوں کو اسلحہ کی فراہمی بند کرنےکے لیے دبائو ڈالا جائے۔

مسودے میں ترامیم

اقوام متحدہ کے سفارتی ذرائع نے "العربیہ" کو بتایا کہ خلیج تعاون کونسل کے سفراء نے سلامتی کونسل میں یمن سے متعلق مجوزہ قرارداد کے مسودے میں دو ترامیم کے بعد روس کو اس کا جواب دینے کی مہلت دی تھی جو آج منگل کو ختم ہو رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ روس کے مطالبے پر قرارداد میں دو ترامیم تجویز کی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک تشدد کے خاتمے اور دوسری لڑائی کے دوران امدادی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے کچھ دیر جنگ بندی سے متعلق تھی۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور خلیجی سفیروں کے صلاح مشورے سے شامل کی گئی نئی ترامیم کے بعد روس کو آگاہ کردیا گیا ہے اور اس سے تجاویز پراپنا ردعمل جاری کرنے کوکہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ روس کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے دی گئی مہلت آج ختم ہو رہی ہے۔ ذرائع کا کہناہے کہ حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی پر پابندی اور تنظیم کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کی سفارشات پر روس کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔