.

'دی ٹن ڈرم' کے خالق گُنٹر گرَاس آنجہانی ہو گئے

اسرائیل پر نظم نے انہیں سامی مخالف ادیب کے طور پر مشہور کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نوبل انعام یافتہ جرمن ادیب اور مجسمہ ساز گُنٹر گراس نشیب و فراز سے بھرپور زندگی گذارنے کے بعد 87 برس کی عمر میں شمالی جرمن شہر لیوبیک انتقال کر گئے۔

گنٹر گراس نے سولہ اکتوبر 1927ء کو پولینڈ کے گڈانسک نامی شہر کے بظاہر ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی۔ اُن کے والدین کی گڈانسک میں کریانہ کی ایک دکان تھی۔ اس علاقے میں غربت تھی، ان کے گھر میں جگہ بھی تنگ تھی اور اطراف کی آبادی کیتھولک مسیحی تھی۔ گنٹر گراس کی سوانح نگار مشائیل یُرگس کے مطابق ’’ اُن کا بچین ایک ایسے دور میں گزرا، جہاں ایک جانب مذہب تھا اور دوسری جانب ہٹلر کے عروج کا زمانہ‘‘۔

سترہ سال کی عمر میں گُنٹر گراس نے دوسری عالمی جنگ کی تباہی کو قریب سے دیکھا۔ وہ اس جنگ میں نوجوان معاون اور پھر نازیوں کی ایلیٹ فورس کے سپاہی کے طور پر شریک رہے۔ تاہم اس بارے میں انہوں نے کئی دہائیوں بعد انکشافات کیے، جس کے بعد ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔ بعد میں کہا یہ توجیہ پیش کی گئی کہ جنگ کے زمانے میں جان بچانے کے لیے ایسا کرنا پڑا۔

گُنٹر گراس کی جانب سے ہٹلر کے ’وافن ایس ایس‘ یونٹ میں شمولیت کے اعتراف کے بعد ناقدین نے اُن کی اخلاقی دیانت اور ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیے۔ ماضی میں نازیوں کا ساتھ دینے کی وجہ سے انہیں منافق بھی کہا گیا۔

’دی ٹِن ڈرم‘ کے نام سے اُن کا پہلا ناول منظر عام پر آیا، جسے بعد ازاں عالمی سطح پر شہرت بھی حاصل ہوئی۔ 1979ء میں اس پر فلم بھی بنی اور کئی زبانوں میں اس کا ترجمہ بھی کیا گیا۔ دی ٹِن ڈرم کے شائع ہونے کے تقریباً چالیس سال بعد یعنی 1999ء میں گنٹر گراس کے ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

گنٹر گراس کئی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ وہ ادیب تھے، انہوں نے گانے بھی تحریر کیے، مجسمہ ساز تھے اور اپنی تصانیف کے سرورق بھی خود ہی بناتے تھے۔ انہوں نے 1969ء میں سابق جرمن چانسلر ولی برانڈ کی انتخابی مہم میں بھی حصہ لیا تھا۔ ولی برانڈ سوشل ڈیموکریٹ چانسلر تھے۔

2007ء میں گراس کی 80 ویں سالگرہ پر اُنہیں ایک بار پھر ایک عظیم ادیب کے طور پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اپریل 2012ء میں اُن کی ایک نظم ’جو کہا جانا چاہیے‘ میں اسرائیل کو ہدفِ تنقید بنایا گیا تھا، جیسے ہی یہ نظم شائع ہوئی، ہر طرف سے گراس پر تنقید شروع ہو گئی۔ اس نظم کی ادبی ساخت کو بھی نشانہ بنایا گیا اور گراس کو سیاسی معاملات سے ناواقفیت اور سامی دشمنی کا بھی الزام دیا گیا۔