.

ایران جوہری معاہدے پر اوباما، کانگریس کی مفاہمت

امریکی سینیٹرز نے وائٹ ہائوس کو بات ماننے پر مجبور کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ سینیٹرز کے مطالبے کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے بالآخر کانگریس کو ایران کے ساتھ معاہدے میں اپنی رائے دینے کی اجازت دے ہی ڈالی ہے۔

اوباما اور امریکی سینیٹرز کے درمیان یہ معاہدہ منگل کے روز طے ہوا ہے اور اس سے غیر یقینی کی ایک نئی صورتحال سامنے آجاتی ہے۔ ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے معاہدے کے فریم ورک پر 2 اپریل کو اتفاق کر لیا گیا تھا۔

اس وقت کے بعد سے وائٹ ہائوس ڈیموکریٹ سینیٹرز کو منانے کی کوشش کررہا ہے تاکہ وہ کانگریس کو حتمی معاہدے پر نظر ثانی کا حق فراہم کرنے کے بل کی حمایت نہ کریں۔

مگر عالمی طاقتوں اور ایران کے ساتھ ساتھ واشنگٹن نے بھی خدشے کا اظہار کیا ہے کہ کانگریس 30 جون کی ڈیڈلائن سے پہلے کسی حتمی معاہدے کی تشکیل کے عزم کو بری طرح مجروح کرسکتی ہے۔

سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چئیرمین اور اس بل کے خالق سینیٹر باب کورکر نے کہا ہے کہ وائٹ ہائوس نے صرف اسی صورت میں اس بل کی حمایت کی ہے کہ جب اسے ڈیموکریٹ سینیٹرز کی حمایت حاصل نہیں تھی۔

اس نئے بل کے نتیجے میں وائٹ ہائوس کو ہر مخصوص دورانیے کے بعد ایران کی دہشت گردی کی حمایت، بیلسٹک میزائلوں اور جوہری پروگرام پر تفصیلی رپورٹس سینیٹ کو بھیجنا ہوں گی۔

اوباما انتظامیہ کو حتمی معاہدے کا متن بھی جلد از جلد کانگریس کو بھیجنا ہوگا اور اس بل کے ذریعے سے نظرثانی کے عرصَ کے دوران ایران پر سے امریکی پابندیوں کو اٹھانے کا صدارتی اختیار بھی واپس لے لیا جائیگا۔

ایران کے ساتھ یہ معاہدہ اوباما انتظامیہ کی اہم میراث کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اوباما اس عرصے دوران بطور صدر لگائی جانے والی پابندیوں کو اٹھا سکتے ہیں مگر امریکی قانون سازوں کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کو اٹھانے کے لئے اوباما کو کانگریس کی حمایت چاہئیے ہوگی۔