.

حوثیوں کی شورش کے پیچھے ایران کا ہاتھ:سعودی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے کہا ہے کہ یمن میں حوثیوں کی شورش پسندی کے پیچھے ایران کا ہاتھ کارفرما ہے۔انھوں نے مزید کہا ہے کہ ایران ہی نے شیعہ ملشیائیں قائم کیں اور انھیں اسلحہ مہیا کیا ہے۔

احمد العسیری بدھ کو دارالحکومت الریاض میں صحافیوں کو یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری آپریشن فیصلہ کن طوفان کے بارے میں معمول کی بریفنگ دے رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ اتحاد کے تحت چلنے والے بحری جہازوں نے یمن میں اسلحہ اسمگل کرنے کی کسی کوشش کا سراغ نہیں لگایا ہے اور اس وقت یمن کی ساحلی اور فضائی حدود ان کے کنٹرول میں ہیں۔ اتحادی طیاروں نے یمن کے جنوبی علاقوں میں حوثی باغیوں کی مزاحمت کرنے والے مقامی گروپوں کے لیے فوجی اور طبی امدادی سامان بھی گرایا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اتحادی طیاروں نے یمن میں حوثی ملیشیا کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ سعودی عرب کی برّی فوج نے یمن کے ساتھ سرحدی علاقے میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی ہے۔

درایں اثناء ملائشیا کے وزیردفاع سعودی عرب کے دورے پر الریاض پہنچے ہیں۔وہ سعودی قیادت سے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف جاری فوجی مہم کے سلسلے میں تبادلہ خیال کریں گے۔پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا ایک وفد بھی سعودی دارالحکومت میں ہے۔

وفد میں وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز بھی شامل ہیں۔وفد نے بدھ کو جدہ میں سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعودالفیصل سے ملاقات کی ہے اور وہ جمعرات کو الریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری مہم میں فوجی تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرے گا۔

وفد سعودی قیادت کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے حوثیوں کے خلاف مہم میں مکمل حمایت کی یقین دہانی کرانے کے لیے گیا ہے۔پاکستان کی پارلیمان نے گذشتہ جمعہ کو متقفہ طور پر ایک قرار داد منظور کی تھی جس میں حکومت پر زوردیا تھا کہ وہ یمن بحران میں غیر جانبدار رہے اور بحران کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں کرے۔