مراکش کی کابینہ میں شہنائیاں گونجنے والی ہیں

شمالی افریقا کے عرب ملک کی خاتون وزیر نے ہمصر رکن کابینہ کو 'ہاں' کہہ دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سیاست دانوں اور اہم شخصیات کی ہمہ پلہ خواتین سے شادیاں کوئی نئی بات نہیں مگر کسی ملک کی پارلیمنٹ کے دو حاضر سروس مردو زن وزراء کا آپس رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا کم از کم شمالی افریقا ملک مراکش کی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے۔ مراکش کی حکومت میں شامل ایک وزیر نے اپنی ساتھی خاتون وزیر کو پیغام نکاح بھیجا، جسے انہوں نے قبول کرلیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزیر برائے پارلیمانی تعلقات حبیب الشوبانی اور خاتون وزیر تعلیم سمیہ بن خلدون کچھ ہی عرصہ قبل ایک دوسری کی محبت کے اسیر ہوئے۔ مراکشی روز نامہ ’’اخبار الیوم‘‘ کے مطابق حبیب الشوبانی نے اپنی والدہ اور سابقہ بیوی کی اجازت سے سمیہ بن خلدون کو پیغام نکاح بھیجا ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق الشوبانی نے اس سے قبل بھی اس خاتون وزیر سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تھا مگر وزیر موصوف کی والدہ نہیں مان رہی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق خاتون وزیرہ 53 سالہ بن خلدون کو ایک سال قبل پہلے شوہر سے طلاق ہوگئی تھی۔ پہلے شوہر سے اس کے تین بچے ہیں۔ طلاق کے کچھ عرصہ بعد حکمراں مذہبی سیاسی جماعت’ ’انصاف و ترقی‘‘ پارٹی کے رہ نما حبیب الشوبانی نے اس سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تھا، جسے سمیہ نے بھی بہ خوشی قبول کرلیا۔ اب وہ ایک بار پھر پیا گھر سدھارنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

ادھر مراکش کی اپوزیشن جماعت استقلال کے سیکرٹری جنرل حمید شباط نے حبیب الشوبانی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عاید کیا ہے کہ شوبانی نے خاتون وزیر کو شادی کا جھانسہ دے کر پہلے شوہر سے طلاق دلوائی۔ اس کے پہلے شوہر سے تین بچے ہیں۔ ایک پچاس سالہ خاتون کے خاندان کو اس طرح منتشر کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

تاہم سمیہ بن خلدون نے حمید شباط کے بیان کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ میرے اور سابقہ شوہر کے درمیان حقیقی اختلافات تھے جس کے نتیجے میں ہمارے درمیان جدائی ہوگئی تھی۔ طلاق میں میرے ہونے والے شوہر کا کوئی کردار نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں