شامی اغوا کاروں نے شناخت چھپانے کی کوشش کی تھی: صحافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کے خارجہ امور پر چیف رپورٹر رچرڈ انجل نے بتایا ہے کہ انہیں اور ان کے پانچ ساتھیوں کو تین سال قبل اغوا کرنے والے شامی جنگجو نے ان سے جھوٹ بولا تھا کہ وہ شیعہ ملیشیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقت میں ان جنگجوئوں کا تعلق سنی گروپ سے تھا۔

انجل نے این بی سی کی ویب سائٹ پر لکھے گئے ایک آرٹیکل میں بتایا "اغوا کاروں نے ہمیں بتایا کہ وہ شبیحہ نامی شیعہ ملیشیا سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ صدر بشار الاسد کی حامی سمجھی جاتی ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا "وہ ایک خاص لہجے میں بولتے تھے، فون پر شیعہ نعرے لگاتے تھے، سگریٹ پیتے تھے اور ہمیں شیعہ نشانوں والے کپ میں کافی پینے کو دیتے تھے۔"

"مجھے اور میرے عملے میں شامل عربی بولنے والے افراد کو یہ یقین تھا کہ وہ شبیحہ سے تعلق رکھتے ہیں۔"

انجل کے مطابق تھا کہ مگر اب واضح ہوا ہے کہ یہ اغوا کار سنی تھے اور ان کا تعلق شبیحہ سے نہیں ہے مگر انہوں نے انہیں اور ان کے عملے کو دھوکا دینے کے لئے بہت کوشش کی۔

مگر اپنے اغوا کاروں کے بارے میں نئے سوالات سامنے آنے پر انجل نے حقائق کی تلاش میں شام کے اندر اور باہر موجود درجنوں ذرائع سے بات کی جن میں دو ذرائع ایسے بھی تھے جو کہ ان واقعات کا سب سے پہلے علم رکھتے تھے۔

اس سے پہلے 18 دسمبر 2012ء میں انجل نے ٹی وی شو 'ٹوڈے' میں بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کے پانچ دن کے اغوا کے پیچے شبیحہ کا ہی ہاتھ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں