.

ایران کو میزائلوں کی فروخت اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں: پوتن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے صدرولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ حال ہی میں ایران کو فروخت کیے گئے ’’ایس 300‘‘ میزائلوں سے اسرائیل کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے ٹیلیفون پر بات چیت میں کہی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رُوسی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم نتین یاھو سے بات کرتے ہوئے انہیں ایران کو فروخت کیے گئے میزائلوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا اورانہیں یقین دہانی کرائی کہ ماسکو کے میزائل صہیونی ریاست کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ صدر پوتن کا کہنا تھا کہ ایران کو ’’ایس 300‘‘ میزائلوں کی فروخت کوئی غیرمعمولی دفاعی ڈیل نہیں۔ اس ڈیل کے اسرائیل پر کسی قسم کے منفی اٖثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں کے اٹھائے جانے کے اعلانات کے ساتھ ہی روس نے تہران کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ’’ایس 300‘‘ میزائل فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتین یاھو کی جانب سے ایران کو میزائلوں کی فروخت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے تہران کو میزائل اور غیر روایتی ہتھیاروں کی فروخت خطے میں ایران کی معاندانہ سرگرمیوں کو مزید بڑھانے میں مدد ملے گی اور مشرق وسطیٰ میں امن وامان کی مساعی کوبھی نقصان پہنچے گا۔

روس نے ایران کو ’’ایس 300‘‘ میزائلوں کی فروخت ایک ایسے وقت میں کی جب ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر ابتدائی معاہدہ طے پایا ہے۔ اگرچہ ایران اور گروپ چھ کے درمیان جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے تاہم روس نے حتمی معاہدے سے قبل ہی پابندیاں اٹھاتے ہوئے ایران کو ہتھیاروں کی فروخت شروع کردی ہے۔