.

بین کی مون کا یمن میں تمام فریقوں سے جنگ بندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے یمن میں تمام فریقوں سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

عالمی ادارے کے سربراہ کی جانب سے یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے 26 مارچ کو ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فضائی مہم کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ جنگ روکنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

بین کی مون نے واشنگٹن میں جمعرات کی رات نیشنل پریس کلب میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''مشرق وسطیٰ کا یہ غریب ترین ملک پہلے ہی مسائل زدہ تھا،لوگ بھوک اور غربت کا شکار ہیں اور اب جنگ نے ان مسائل کو دوچند کردیا ہے۔اسی وجہ سے میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کررہا ہوں''۔

انھوں نے کہا:''سعودیوں نے مجھے یہ یقین دہانی کرائی ہے اور وہ یہ بات سمجھتے ہیں کہ یمن میں بحران کے حل کے لیے ایک سیاسی عمل ہونا چاہیے۔اس لیے میں تمام یمنیوں سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ نیک نیتی سے اس سیاسی عمل میں شریک ہوں''۔

سی سپین ریڈیو سے نشر کی گئی اس تقریر میں انھوں نے کہا کہ ''اقوام متحدہ سفارتی عمل کی حمایت کرتی ہے اور یہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ ہے کیونکہ اس جنگ کے علاقائی استحکام کے لیے خوف ناک مضمرات ہوں گے''۔

بین کی مون آج جمعہ کو یمن کے لیے اقوام متحدہ کے نئے خصوصی ایلچی کا تقرر کرنے والے ہیں۔سابقہ ایلچی جمال بن عمر بدھ کو اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوگئے ہیں اور اب ان کی جگہ موریتانیہ سے تعلق رکھنے والے سفارت کار اسماعیل ولد شیخ احمد کا تقرر کیا جارہا ہے۔وہ اس منصب کے لیے واحد امیدوار ہیں۔وہ ایک تجربے کار اور منجھے ہوئے سفارت کار ہیں اور انھیں یمن میں اقوام متحدہ کے تحت انسانی امداد کی سرگرمیاں انجام دینے کا بھی تجربہ ہے۔