.

حوثی مخالف گروپ پیش قدمی کررہے ہیں:ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے کہا ہے کہ یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف لڑنے والے جنگجو پیش قدمی کررہے ہیں۔

احمد العسیری نے العربیہ نیوز چینل کے سسٹر چینل الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے یمنی فوج کے بریگیڈ کمانڈروں پر زوردیا ہے کہ وہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قانونی حکومت کی حمایت کریں اور یمنی عوام کا تحفظ کریں۔

قبل ازیں انھوں نے الریاض میں اپنی معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ ''اتحادی طیاروں نے حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ تیل کے ڈپوؤں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے''۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ حوثی شیعہ باغی اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجی یمن میں ایندھن کے ذرائع اور ڈپوؤں پر قبضہ کررہے ہیں لیکن اب اتحادی فورسز کے لڑاکا طیارے حوثیوں کے زیر قبضہ ڈکیتی کے ذریعے چھینی گئی گاڑیوں ،کیمپوں ،اسلحے کے ڈپوؤں اور ایندھن کے ٹینکوں کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنا رہے ہیں۔

بریگیڈئیر جنرل عسیری نے بتایا کہ سعودی اتحاد نے عدن میں یمنی حکومت کی حامی فورسز کو فضا کے ذریعے اسلحہ اور خوراک مہیا کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔عدن میں عوامی مزاحمتی کمیٹیوں کے اتحادی فورسز کے ساتھ برقی روابط کی وجہ سے اب وہاں حوثیوں کے ٹھکانوں اور تنصیبات پر بالکل ٹھیک ٹھیک بمباری کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یمنی گورنری تعز میں صورت حال مستحکم ہے۔شہری علاقوں میں موجود حوثی شیعہ باغیوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے سے گریز کیا جارہا ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ بحری جہازوں کے ذریعے امدادی سامان بہت جلد یمن کی بندرگاہوں پر پہنچنے والا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا نے یمنی سرحد سے سعودی علاقے کی جانب مارٹر گولے پھینکنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور دو جنوبی سرحدی علاقوں نجران اور جازان میں حوثی جنگجوؤں اور سعودی سکیورٹی فورسز کے درمیان کم وبیش روزانہ ہی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں اور وہاں سعودی عرب کی برّی فوج مملکت کے دفاع کے لیے موجود ہے۔