.

یمن: مزید چار ہزار فوجیوں نے صدرھادی کی حمایت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں جیسے جیسے حوثیوں کے خلاف عالمی اتحادی افواج کے حملوں میں تیزی آتی جا رہی ہے، سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فوج میں اسی تیزی کے ساتھ پھوٹ پڑنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ سابق صدرعلی عبداللہ صالح کے ہمنوا سمجھے جانے والے فوج کے بریگیڈ 123 اور القاعدہ فوجی اڈے کے سپاہیوں کے بعد اب بریگیڈ 135 کے چار ہزار فوجیوں نے بھی آئینی صدرعبد ربہ منصور ھادی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ الحدث کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈ 135 کے کرنل یحیٰی ابو عوجہ نے حضر الموت شہر میں علی صالح کے خلاف اعلان بغاوت کرتے ہوئے اپنے 4000 سپاہیوں کے ساتھ صدر ھادی کی حمایت کا اعلان کیا۔ کرنل یحیٰی کے اعلان کے بعد بریگیڈ میں مزید پھوٹ پڑنے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ قبل ازیں المہرہ گورنری میں متعین بری فوج کے بریگیڈ 123 نے صدر عبد ربہ منصور ھادی کے ساتھ اپنی وفادار کا اعلان کیا تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق بریگیڈ 123 کی عسکری قیادت نے پوری قوت کے ساتھ حوثیوں اور علی صالح کی حامی ملیشیا کے خلاف جنگ لڑںے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کی قیادت میں جاری ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

المہرہ گورنری میں قائم "القاعدہ" فوجی اڈے پر تعینات فوجیوں نے بھی صدر عبد ربہ منصور ھادی کے ساتھ اعلان وفاداری کیا ہے۔ اڈے پر تعینات کرنل انجینیر ثابت قاسم عبداللہ کا کہنا ہے کہ وہ آئینی حکومت اور صدر عبد ربہ منصور ھادی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

تعزمیں خون ریز جھڑپیں

درایں اثناء یمن کے مقامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ تعز گورنری میں صدر عبد ربہ منصور ھادی اور ان کے مخالف حوثیوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ نیوز ویب پورٹل "یمن 24" کے مطابق تعز میں متعین صدر ھادی کے وفادار بریگیڈ 35 اور حوثی ملیشیا کے درمیان خون ریز تصادم ہوا ہے جس کے نتیجے میں دونوں طرف بھاری جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لڑائی تعز گورنری کے پہاڑی علاقوں میں جاری ہے جس میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپیں تعز شہر کےمغربی محاذ پر ہوئی ہیں۔ حوثیوں کے حامی ملیشیا کے عناصراسلحہ اور گولہ بارودی کے ساتھ ان کی مدد کو پہنچے ہیں جبکہ دوسری جانب صدر ھادی کی عوامی مزاحمتی کمیٹیوں نے بھی اپنی قوت مجتمع کرنا شروع کردی ہے۔

عینی شاہدین کا مزید کہنا ہے کہ صدر ھادی کے وفادار بریگیڈ 35 جسے عوامی مزاحمتی کارکنوں کی مدد بھی حاصل نے حوثیوں کے خلاف لڑائی میں اہم پیش رفت حاصل کی ہے اور تعز کے کئی اہم مقامات پر قبضہ کرلیا ہے۔

ادھر حضر الموت گورنری کے المکلا شہر میں قابض شدت پسند تنظیم القاعدہ اور عوام کے حمایت یافتہ بریگیڈ 27 کے درمیان بھی خون ریز جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق حوثی شدت پسندوں نے ماہی گیروں کی کشتیوں کے ذریعے سمندری راستے سے عدن کی جانب فرار کی کوششیں کررہے ہیں۔