ایرانی عہدیدارکی سعودی شہروں پرحملوں کی ترغیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

vیمن میں اہل تشیع مسلک کے حوثی باغیوں کی درپردہ حمایت کرنے والی ایرانی حکومت ایک طرف یمن کے بحران کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہی ہیں اور دوسری جانب ایرانی حکومت میں شامل ’مہم جوئی کے شوقین‘ بعض اعلیٰ عہدیدار سعودی عرب پر حملوں کی ترغیب دے کر معاملات کو مزید الجھا رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ڈپٹی چیف جنرل حسین سلامی نے کہا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں کے پاس ایران کے تمام شہروں تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں۔ مبصرین ان کے اس بیان کو بالواسطہ طور پر سعودی عرب پر حملوں کی ترغیب کے مفہوم میں لے رہےہیں۔

اگرچہ سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثی باغیوں اور علی عبداللہ صالح کے وفاداروں کے خلاف جاری "فیصلہ کن طوفان" آپریشن بھرپور کامیابی کے ساتھ جاری ہے اورمسلسل فضائی حملوں کے بعد حوثیوں کو پسپائی کا سامنا ہے۔ تاہم ایسے میں سعودی عرب کے تمام شہروں کو نشانہ بنانے کی حوثی صلاحیت کا دعویٰ بجائے خود ایران کی جانب سے دھمکی اور نہتے سعودی شہریوں کو نشانہ بنانے کی ترغیب دینے کے مترادف ہے۔

ایرانی عہدیدار کی جانب سے یہ اشتعال انگیز بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے اقوام متحدہ میں سفارتی محاذ اور یمن میں عسکری محاذ پر باغیوں کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور یمن کی آئینی حکومت کی بحالی کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔

خیال رہے کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ آپریشن کے ترجمان جنرل احمد عسیری نے الحدث ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ حوثی ملیشیا کے پاس انداز سے بڑھ کراسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر موجود ہیں جو اس نےاب عام لوگوں کے گھروں میں چھپاپان شروع کردیے ہیں۔

جنرل عسیر کا کہنا تھا کہ آپریشن فیصلہ کن طوفان کے نتیجے میں حوثیوں کی طاقت بری طرح منتشر ہوئی ہے اور وہ اب ایک بارپھر اپنی قوت کو مجتمع کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگرانہیں اس کا موقع نہیں دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں