طرابلس: لیبی دارالحکومت کے پاس جھڑُپیں، کم ازکم 21 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افریقی ملک لیبیا کے فوجی ذرائع کے مطابق دارالحکومت طرابلس میں متحارب گروپوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں کم ازکم 21 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف مراکش میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں لیبیا میں جاری بحران کے خاتمے کے لئے کسی متحدہ حکومت کے قیام کے مذاکرات جاری ہیں جس میں ملک کی دو حریف پارلیمانوں کے نمائندے شامل ہیں۔

فوجی ذرائع کے مطابق لیبیا میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی افواج کی جانب سے اسلام پسند اتحاد فجر لیبیا کا طرابلس سے قبضہ ختم کروانے کے لئے طرابلس سے 30 کلومیٹر دور تاجوراء کے مقام پر قائم جنگجوئوں کے کیمپ پر حملہ کیا گیا تھا۔

ایک فوجی ذرائع نے عالمی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا "14 فوجی، فجر لیبیا کے چار جنگجو اور تین خواتین تاجوراء میں ہونے والی جھڑپوں میں ہلاک ہوگئے ہیں۔" فوجی افسر کا کہنا تھا کہ خواتین غلطی سے راکٹ حملے کا شکار بن گئی تھیں۔

لیبی فوج کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ان جھڑُپوں کے دوران 24 افراد زخمی بھی ہوگئے تھے۔

طرابلس میں فجر لیبیا کے ایک ترجمان محمد شامی نے اس حملے کی تصدیق کی مگر ان کا کہنا تھا حکومتی فوج کے نقصان کی تعداد سرکاری بیان سے کہیں زیادہ ہے۔

شامی کے مطابق "حملہ آور فوج کے 32 ممبران فجر لیبیا کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔"

انہوں نے مزید کہا "فجر لیبیا کا تاجوراء پر مکمل قبضۃ ہے اور 101 کیمپ نامی کیمپ کے پاس کچھ معمولی نوعیت کی جھڑپیں ہوئی ہیں جہاں پر ابھی کچھ حملہ فوج کے سپاہی موجود ہیں اور فجر لیبیا کے جنگجوئوں نے انہیں گھیرے میں لے رکھا ہے۔"

ایک اور حکومتی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ تاجوراء کے علاقے میں فضائی حملوں کی مدد سے گھمبیر لڑائی جاری ہے۔ یہ تازہ ترین لڑائی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حامی فوج کی جانب سے طرابلس کو فجر لیبیا کے قبضے سے چھڑوانے کے لئے ایک نئے محاذ کی نشانی ہے۔

لیبیا میں پچھلے سال اگست میں طرابلس پر فجر لیبیا کے قبضے کے بعد وہ متوازی پارلیمان قائم ہیں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت ملک کے مشرقی حصے میں فرار ہونے پر مجبور ہوگئی ہے۔

اس سے پہلے 24 مارچ کو اقوام متحدہ کے لیبیا میں مشن نے بحران کے خاتمے کے لئے چھ نکاتی ایجنڈا سامنے رکھا جن میں کسی نئے آئین کی تشکیل اور انتخابات کے انعقاد تک ایک عبوری متحدہ حکومت کا قیام شامل ہے۔

حریف پارلیمانوں کے نمائندے اس وقت مراکش میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں مذاکرات میں مصروف ہیں تاکہ کوئی حتمی معاہدہ مکمل ہوسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں