.

خلیج فارس کے بعد خلیج عدن میں بھی جھنڈے گاڑ دیے: روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدرحسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے پاس ناقابل تسخیر دفاع کی صلاحیت رکھنے والی ایک طاقت ور فوج ہے اور ایران نے خلیج فارس کے بعد خلیج عدن میں بھی اپنے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فوج کے قومی دن کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر روحانی کا کہنا تھا کہ خطے کے دوسرے ممالک کی افواج کو ایرانی فوج سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بحریہ نے خلیج فارس کے بعد خلیج عدن، بحر عمان سے بحر متوسط اور عالمی پانیوں میں بھی اپنے جھنڈے گاڑ دیے ہیں مگر ہماری فوج کی موجودگی کسی دوسرے ملک کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایران اور اس کی بحری نقل و حمل کی سلامتی کی ضامن ہے۔

ایرانی صدر کی جانب سے خلیج میں اپنی افواج کی موجودگی اور اس کی جانب سے کسی دوسرے ملک کو خطرہ ہونے کا دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اس وقت یمن میں ایران نواز حوثی باغ حالت جنگ میں ہیں اور ایرانی عسکری عہدیدار حوثی باغیوں کی کھل کر حمایت اور آئینی حکومت کی بحالی کے سلسلے میں ہونے والی مساعی کی مخالفت کررہے ہیں۔ صدر روحانی پھربھی یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ان کی افواج خطے کسی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہے۔

صدر روحانی کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں ایرانی افواج کی موجودگی سے کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری افواج مسلم امہ اور خطے کی تمام اقوام کے لیے امن وسلامتی کا پیغام ہے۔

القدس بریگیڈ اوراس کا منفی کردار

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں خطے کے ممالک ایران پرمداخلت کا الزام عاید کرتے ہیں۔ خطے کے ممالک کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایرانی پاسدارن انقلاب کی بیرون ملک سرگرم عسکری تنظیم ’’فیلق القدس‘‘ یمن، عراق اور شام میں شورش پھیلانے میں ملوث ہے۔

تاہم اس کے باوجود ایرانی صدر کا دعویٰ ہے کہ ان کی افواج سے خطے کے ممالک کو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خلیجی سمندروں میں ایرانی افواج کی موجودگی کسی ملک کی سلامتی کےلیے خطرہ نہیں بلکہ ان کی سلامتی کی ضامن ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے کو دعویٰ کیا تھا نو اپریل کو ایرانی بحریہ کے کئی جنگی بحری جہازز خلیج عدن اور آبنائے باب المندب کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ یہ جہاز ایرانی مفادات کے دفاع کے لیے بھیجے گئے تھے۔

ایرانی خبر رساں اداروں نے بحری جہازوں کی خلیج عدن روانگی کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ یہ جہاز عالمی پانیوں میں ایرانی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔