.

لیبیا کے پانیوں میں 700 تارکین وطن کی ہلاکتوں کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحر متوسط (بحرالروم) میں لیبیا اور اٹلی کے درمیان ساحلی سرحدی علاقے میں غیر قانونی تارکین وطن کی ایک کشتی الٹنے سے سات سو افراد کی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ہائی کمشنر (یو این ایچ سی آر) کی خاتون ترجمان کارلوٹا سامی نے ایک نیوزچینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثے میں صرف اٹھائیس افراد زندہ بچ سکے ہیں۔انھوں نے بتایا ہے کہ کشتی پر سات سو سے زیادہ افراد سوار تھے۔

اس کشتی کو ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب اٹلی کے جزیرے لیمپڈوسا سے ایک سو بیس کلومیٹر جنوب میں لیبیا کی ساحلی حدود میں حادثہ پیش آیا تھا۔کشتی میں سوار افراد سمندر میں ایک اور تجارتی جہاز نظر آنے کے بعد ایک جانب ہوگئے تھے جس کی وجہ سے وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھی سکی اور ڈوب گئی۔

اٹلی کی بارڈر پولیس کے ایک سینیر عہدے دار نے ٹیلی ویژن چینل رائی نیوز 24 کو بتایا ہے کہ حادثے کے بعد اٹھائیس افراد کو بچا لیا گیا ہے اور چوبیس لاشیں نکال لی گئی ہیں۔انھوں نے بتایا ہے کہ کشتی لیبیا کے پانیوں میں ڈوبی تھی۔

اطالوی وزیراعظم میٹو رینزی نے اس افسوسناک حادثے کے بعد کہا ہے کہ یورپ بحر متوسط میں ایک منظم قتل عام کو مشاہدہ کررہا ہے۔اب جبکہ جدید مواصلاتی ذرائع موجود ہیں تو ہم پوری پوری آبادی کی ہلاکتوں سے کیسے لاتعلق رہ سکتے ہیں۔

مالٹا کے وزیراعظم جوزف مسقط کا کہنا ہے کہ سمندر میں مرنے والوں کی لاشیں تیر رہی ہیں اور امدادی کارکنان زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کررہے ہیں۔یہ بحر متوسط میں یہ ایک بڑا حادثہ ہوسکتا ہے۔مرنے والوں میں بچے ،خواتین اور مرد ہیں۔

حادثے کے بعد سمندر میں اٹلی کے سترہ چھوٹے جہاز امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ان میں مالٹا کی ایک کشتی بھی شامل ہے۔اٹلی کے ساحلی محافظوں نے بتایا ہے کہ مچھیروں کی یہ کشتی مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور انھیں لیبیا سے اٹلی اسمگل کرکے لایا جارہا تھا۔

اگر ہلاکتوں کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یورپی یونین کے رکن ممالک میں بہتر روزگار کی تلاش میں جانے کی کوشش کے دوران ڈوب کر مرنے والوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہوگی۔انسانی اسمگلر عام طور پر سہانے مستقبل کا جھانسا دے کر ایشیا ،افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے افراد کو کشتیوں پر ان کی گنجائش سے زیادہ تعداد میں سوار کر لیتے ہیں اور وہ بالعموم حادثات کا شکار ہوجاتی ہیں۔

ایک ہفتے قبل بحر متوسط میں دو اور کشتیاں ڈوبنے سے قریباً ساڑھے چار سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس سال کے آغاز کے بعد سے اب تک لیبیا اور اٹلی کے درمیان پانیوں میں کشتیوں یا چھوٹے جہازوں کے ڈوبنے سے قریباً پندرہ سو غیر قانونی تارکین وطن ہلاک ہوچکے ہیں۔

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین (آئی او ایم) کے تخمینے کے مطابق اس سال اب تک قریباً بیس ہزار تارکین وطن اٹلی کے ساحلی علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔یہ تعداد گذشتہ سال پہلے چار ماہ کے دوران اٹلی پہنچنے والوں کے مقابلے میں تھوڑی ہی کم ہے جبکہ اس عرصے کے دوران سمندر میں ہلاکتوں میں نو گنا اضافہ ہوا ہے۔