.

علی صالح کی جماعت کا جنگ بندی کے لیے قراداد کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے سابق مطلق العنان صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت نے ملک میں جنگ بندی سے متعلق اقوام متحدہ کی حالیہ قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے اور سعودی عرب سمیت تنازعے کے تمام فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ اس کا احترام کریں۔

معزول صدر کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس نے اپنی ویب سائٹ پر اتوار کو ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں گذشتہ ہفتے منظور کردہ قرار داد پر مثبت ردعمل ظاہر کرے گی۔

بیان کے مطابق ''جماعت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے تمام فریقوں سے جنگ بندی اور مذاکرات کی میز پر آنے کے مطالبے کا خیرمقدم کرتی ہے اور وہ ملک کے اندر اور باہر تمام فریقوں پر زور دیتی ہے کہ وہ اس مطالبے پر مثبت ردعمل ظاہر کریں''۔

قرارداد میں یمن کے تمام فریقوں اور خاص طور پر حوثیوں پر زوردیا گیا تھا کہ وہ تشدد کا خاتمہ کریں اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں سیاسی انتقال اقتدار کے لیے امن مذاکرات کریں۔تاہم اس میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے حوثی باغیوں اور علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز پر فضائی حملوں کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا تھا۔

درایں اثناء یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیاروں کے حوثی باغیوں پر فضائی حملے جاری ہیں اور انھوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز نے حوثیوں سے لڑائی کے بعد جنوبی شہر عدن کی ساحلی پٹی کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

اس علاقے پر حوثی باغیوں اور علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز نے قبضہ کررکھا تھا۔ یمنی حکام کے مطابق باغی جنگجوؤں نے عدن کے شمال میں واقع علاقے دار سعد پر بھی قبضے کی کوشش کی ہے لیکن وہ اس میں ناکام رہے ہیں اور ان کے حملے کو پسپا کردیا گیا ہے۔

ادھر اردن کے دارالحکومت عمان میں اقوام متحدہ کی یمن میں امدادی سرگرمیوں کے لیے رابطہ کار پرنیما کاشیاپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے یمن میں لڑائی سے متاثرہ افراد کے لیے ہنگامی بنیاد پر مدد کی اپیل پر ستائیس کروڑ سینتیس لاکھ ڈالرز دینے سے اتفاق کیا ہے۔انھوں نے اس فراخدلانہ امداد پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ ہفتے خانہ جنگی سے متاثرہ قریباً پچھہتر لاکھ یمنیوں کو ادویہ ،خوراک ،پینے کا صاف پانی اور ہنگامی بنیاد پر شیلٹر مہیا کرنے کے لیے رکن ممالک سے امداد کی اپیل کی تھی لیکن سعودی عرب نے اکیلے ہی یہ تمام رقم مہیا کرنے کی ہامی بھر لی ہے۔