.

ایران اور آسٹریلیا داعش سے متعلق سراغرسانی پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا اور ایران نے عراق میں داعش میں شامل ہوکر لڑنے والے غیر ملکی جنگجوؤں کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے سے اتفاق کیا ہے۔

یہ بات آسٹریلوی وزیرخارجہ جولی بشپ نے ایران کے حالیہ دورے کے بعد ملک واپسی پرسوموار کو ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے تہران میں ہفتے کے روز ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف ،صدر حسن روحانی اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر برائے امور خارجہ علی اکبر ولایتی سے ملاقاتیں کی تھی۔

انھوں نے آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''داعش کے خلاف تعاون کا یہ غیر رسمی انتظام ہوگا۔ہمارا اور ایران کا عراق میں ایک ہی مقصد ہے اور وہ داعش کو شکست سے دوچار کرنا اور عراقی حکومت کی حمایت ہے''۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ ''ایران کی قومی قیادت کے ساتھ تبادلہ خیال میں ہم نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ہم انٹیلی جنس کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔خاص طور پر آسٹریلیا سے آنے والے ان غیرملکی دہشت گردوں کے حوالے سے سراغرسانی کا تبادلہ کرسکتے ہیں جو عراق میں جاری تنازعے میں حصہ لے رہے ہیں''۔

جولی بشپ کا کہنا تھا کہ ''عراق میں ایران کے فوجیوں کی بڑی تعداد اور سراغرسانی کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے جبکہ آسٹریلیا کا وہاں ایسا کوئی نیٹ ورک نہیں ہے۔میرا خیال ہے کہ ایران کے پاس ایسی معلومات موجود ہیں جو وہ ہمارے ساتھ شئیر کرسکتا ہے''۔

تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ خفیہ معلومات دینے کے بدلے میں ایران نے آسٹریلیا سے کیا مانگ کی ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ ''وہ خفیہ معلومات کے تبادلے سے متعلق انتظام کی تفصیل نہیں بتانا چاہتی ہیں لیکن اگر ایران کے پاس ایسی معلومات ہوئی ہیں،جو ہمارے مفاد میں ہیں تو وہ ہمیں فراہم کرے گا اور اگر ہمارے پاس اس کے مفاد کی معلومات ہوئی ہیں تو ہم اس کو دیں گے کیونکہ ہمارا مشترکہ مقصد داعش کو شکست دینا ہے''۔

آسٹریلیا عراق میں امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد کا حصہ ہے اور اس کے لڑاکا طیارے بھی داعش کے جنگجوؤں اور ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔اس نے گذشتہ ہفتے عراقی سکیورٹی فورسز کی تربیت کے لیے مزید تین سو تیس فوجی دستے روانہ کرنے کا آغاز کیا تھا۔

ایران امریکا کی قیادت میں اس اتحاد میں شامل تو نہیں ہے لیکن وہ عراق میں داعش مخالف جنگ میں شیعہ ملیشیاؤں کی مدد کررہا ہے اور اس نے اپنے اعلیٰ فوجی کمانڈر بھی بھیجے ہوئے ہیں جو عراقی سکیورٹی فورسز کی داعش کے خلاف حربی منصوبہ بندی میں رہ نمائی کررہے ہیں۔

اس وقت ایک سو سے زیادہ آسٹریلوی شہریوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ عراق اور شام میں جہادی گروپوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔آسٹریلوی حکام ان کے حوالے سے اس تشویش کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ وہ واپسی پر ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

میلبورن میں ہفتے کے روز حکام نے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔وہ مبینہ طور پر 25 اپریل کو آسٹریلوی فوجیوں کے یادگاری دن کے موقع پر داعش کی طرح کے حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔