.

حجاب شرعی فریضہ، ترک کرنا گناہ ہے: جامعہ الازھر

جامعہ الازھر کا حجاب مخالف طبقات کو سخت جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکی سب سے بڑی دینی درس گاہ جامعہ الازھر نے واضح اور دو ٹوک موقف میں واضح کیا ہے بعض طبقات کی جانب سے خواتین کے حجاب کی پابندی لگانے کا مطالبہ غیر شرعی ہی نہیں بلکہ مسلمان خواتین کی آزادی اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت کے خلاف ہے۔ جامعہ الازھر حجاب کو اسلامی شریعت کا ایک اہم فریضہ سمجھتی ہے۔

جامعہ الازھر کے سیکرٹری ڈاکٹر عباس شومان نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حجاب کی پابندی نصوص شرعی سے ثابت ہے۔ کوئی مسلمان اس کی مخالفت نہیں کرسکتا۔ تارک حجاب گناہ گار تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حجاب کی مخالفت کرنے والے لوگ خواہشات نفسانی کی پیروی کررہے ہیں۔ ایسے لوگ اسلام کے قطعی شرعی اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے اللہ عزوجل کے نازل کردہ احکامات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہیں۔ جو لوگ حجاب کو محض ایک سماجی روایت قرار دے کر اس کی مخالفت کررہے ہیں ان کے پاس اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے حالانکہ خواتین کا حجاب اختیار کرنا صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ اسلام کے شرعی اصولوں میں سے ایک واضح اصول اور اسلام کا ایک بنیادی شرعی فریضہ ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں مصر میں لبرل اور سیکولرنظریات کے حامل بعض گروپوں اور این جی اوز کی جانب سے خواتین کے حجاب پرکڑی تنقید کرتے ہوئے حجاب کے خلاف لاکھوں لوگوں کو سڑکوں پر لانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم مصر کی تمام دینی جماعتوں اور جامعہ الازھر نے سیکولر طبقوں کے اس غیر شرعی مطالبے کی کھل کر مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اسلامی تعلیمات اور شعائر اسلام کے خلاف مصرمیں کوئی ملین مارچ کامیاب نہیں ہوسکتا۔

ڈاکٹر عباس شومان کا کہنا تھا کہ آزادی اور حقوق نسواں کے علمبردار بعض ادارے اور تنظیمیں اسلامی شعائر کا مذاق اڑا رہی ہیں۔ انہی میں خواتین کے حجاب کا معاملہ بھی شامل ہے جسے خواتین پر پابندیوں کے معنوں میں لیا جاتا ہے حالاںکہ حجاب عورت کی عزت وناموس کی حفاظت کی علامت ہے۔

جامعہ الازھر میں فلسفہ اور اسلامیات کی خاتون پروفیسر ڈاکٹر آمنہ نصیر نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شریعت کی رو سے بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد لڑکیوں کے لیے حجاب کا اہتمام واجب ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسماء بنت ابو بکرسے ارشاد فرمایا تھا کہ جب لڑکی حیض کی عمرکو پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کے ہاتھ اور رخسار نظر نہیں آنے چاہئیں۔