.

علی صالح حوثی باغیوں سے اتحاد کے انکاری

حوثی باغی صدر منصور ہادی کے متبادل ایک سیاسی قوت بن چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح نے حوثی باغیوں کے ساتھ کسی قسم کے اتحاد یا فوجی روابط سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ حوثیوں کا آرمی اور سکیورٹی فورسز پر کنٹرول ہے۔

یمن کی سابق حکمراں جماعت جنرل پیپلز کانگریس کی ویب سائٹ المعتمر ڈاٹ نیٹ پر جاری کردہ ایک بیان کے مطابق علی صالح نے حوثیوں کے بارے میں کہا ہے کہ ان کی اپنی ملیشائیں ہیں اور وہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کے متبادل سیاسی قوت اور اتھارٹی بن چکے ہیں۔

انھوں نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2012ء میں سرکاری طور پر اقتدار چھوڑنے کے بعد سے ان کا آرمی اور سکیورٹی فورسز سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔انھوں نے یمن میں جاری تنازعے کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی مطالبات کی حمایت پر آمادگی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ جنرل پیپلز کانگریس اقوام متحدہ اور خلیجی ریاستوں کی نگرانی میں مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔

علی عبداللہ صالح کے بارے میں یہ عام خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کے غیرعلانیہ اتحادی ہیں اور ان کے وفادار یمنی فوج کے بہت سے یونٹ حوثیوں کے ساتھ مل کر لڑرہے ہیں۔انھوں نے ہی حوثیوں کے ساتھ مل کر ہادی حکومت کا تختہ الٹنے اور اقتدار پر قبضے کا منصوبہ بنایا تھا۔

ان کے اسی کردار کے پیش نظر گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعے حوثی باغیوں کے سربراہ عبدالملک الحوثی اور علی عبداللہ صالح کے بیٹے احمد علی صالح پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔سلامتی کونسل کے اس اقدام کے بعد امریکا کے محکمہ خزانہ نے بھی ان دونوں یمنی شخصیات کے اثاثے منجمد کر لیے تھے اور امریکیوں پر ان کے ساتھ کسی قسم کے لین دین اور کاروبار پر پابندی عاید کردی تھی۔

جنرل پیپلز کانگریس نے گذشتہ روز ایک بیان میں ملک میں جنگ بندی سے متعلق اقوام متحدہ کی اس قرارداد کا خیرمقدم کیا تھا اوراس نے سعودی عرب سمیت تنازعے کے تمام فریقوں پر زوردیا کہ وہ اس کا احترام کریں۔بیان کے مطابق ''جماعت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے تمام فریقوں سے جنگ بندی اور مذاکرات کی میز پر آنے کے مطالبے کا خیرمقدم کرتی ہے اور وہ ملک کے اندر اور باہر تمام فریقوں پر زور دیتی ہے کہ وہ اس مطالبے پر مثبت ردعمل ظاہر کریں''۔