.

فوج ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے تیار رہے: ایرانی سپریم لیڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا کی جانب سے سامنے آنے والے دھمکی آمیز بیان کے بعد مسلح افواج کو ہنگامی حالت سے نمٹںے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے امریکا کی جانب سے جاری اس بیان کی شدید مذمت کی جس میں کہا گیا تھا کہ تہران کے جوہری پروگرام پر کام جاری رہنے کی صورت میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن موجود ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر نے جو مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف بھی ہیں، اعلیٰ عسکری قیادت کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ فوج کو ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کرنے کے لیے خود کو تیار رکھنا ہوگا۔

خیال رہے کہ سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ کی جانب سے فوج کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم ایک ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب اس سے ایک روز قبل ایران میں فوج کا قومی دن منایا گیا۔

سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ "ہمارے دھوکہ باز دشمن کی جانب سے ایک متعین اور طویل خاموشی کے بعد بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکیوں کے خلاف ایران کے دفاعی پروگرام کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی کا آپشن بھی موجود ہے۔ ہم ان بے وقوفوں کی بات کی پرواہ نہیں کرتے مگر ہمیں اپنے دفاع سے غافل بھی نہیں رہنا چاہیے۔ مسلح افواج کو ہرقسم کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار رکھنا ہوگا‘‘۔

خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی کا کہنا تھا کہ ایران نے متنازعہ جوہری پروگرام کی سرگرمیاں جاری رکھیں تو تہران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اس بیان کے رد عمل میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ ہمارا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے اور ہم کسی ملک کی سلامتی اور خود مختاری کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ ہم اپنے کسی پڑوسی ملک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ اس کے باوجود ہم اپنے دفاع سے غافل بھی نہیں ہیں۔ ایران پرحملہ کیا گیا تو تہران پوری قوت سے اپنا دفاع کرے گا۔