ایران کے لیے جاسوسی پر بیلجئین شہری کو 7 سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی ایک عدالت نے ایران اور بیلجیئم کی دُہری شہریت کے حامل ایک شخص کو تہران کے لیے جاسوسی کے جرم میں قصوروار قرار دے کر سات سال قید کا حکم دیا ہے۔

استغاثہ کے مطابق چھپن سالہ ملزم علی منصوری پر الزام تھا کہ اس نے تل ابیب میں اپنے ہوٹل کی بالکونی سے امریکی سفارت خانے سمیت متعدد حساس مقامات کی تصاویر بنائی تھیں۔اسرائیل کے وسطی شہر لاڈ میں اس ایرانی کے خلاف مقدمہ چلایا گیا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ علی منصوری نے ایران کو جو معلومات فراہم کی تھی،وہ کوئی زیادہ اہمیت کی حامل نہیں تھیں۔

اس کو2013ء میں تل ابیب میں گرفتار کیا گیا تھا اوراس نے گذشتہ سال نومبر میں پلی بارگین سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔عدالتی دستاویز کے مطابق اس ایرانی نے بیلجیئم کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا تین مرتبہ سفر کیا تھا اور اس کے ان دوروں کا مقصد وہاں آلات اور اشیاء کی فروخت کے لیے کاروباری مراسم استوار کرنا تھا۔پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ وہ تاجر کے روپ میں ایران کے لیے انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنا چاہتا تھا۔

وہ امریکی سفارت خانے کے علاوہ تل ابیب میں ساحل سمندر،مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ایک فوجی تنصیب کی تصاویر بناتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔تاہم اس فوجی تنصیب کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ایران نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد پر اپنی جوہری تنصیبات کی جاسوسی کرنے اور جوہری سائنسدانوں کو قتل کرنے کے متعدد الزامات عاید کیے ہیں۔ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے اس کے جوہری پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے لیے خفیہ مہم برپا کر رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں