تہران مخالف جیش العدل کا اہم رہنما کراچی میں ہلاک

انتہا پسند تنظیم ترکمان زھی کی ہلاکت کی تردید یا تصدیق سے گریزاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی حکومت مخالف تنظیم جیش العدل بلوچی کے دوسرے اہم رہنما ترکمان زھی کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نامعلوم افراد نے قتل کر دیا ہے۔

پاسداران ایران کی نگرانی میں چلنے والی خبر رساں ایجنسی 'فارس' نے نامعلوم سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ محمد سعید ترکمان زھی جیش العدل کا ترجمان تھا اور اسے نامعلوم افراد نے 07 اپریل کو کراچی میں قتل کیا۔ جیش العدل نے اپنے ترجمان کی ہلاکت سے متعلق خبر کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔

گذشتہ منگل کو ایرانی وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے بتایا تھا کہ تہران نے پاکستان کے ایران سے ملنے والی سرحد کے جنوب مشرقی علاقوں میں حکومت مخالف بلوچ تنظیموں کی سرکوبی کے لئے آپریشن کی اجازت مانگی تھی جہاں بقول ایران،
پاکستانی حکومت اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام رہی۔

چند ہفتے قبل بلوچستان کے علاقے میں جیش العدل اور اس کی ہم خیال انتہا پسند تنظیموں نے ایرانی شہروں میں کھل کر خون کی ہولی کھیلی جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب اور ایرانی سرحدی پولیس کے متعدد اہلکار ہلاک ہوئے۔

گذشتہ جمعہ کو ہاکستان اور ایران نے اسلام آباد میں ہونے والے دونوں ملکوں کے نمائندہ سیکیورٹی اجلاس میں دونوں ملکوں کے درمیان سرحد کو کنڑول کرنے سے متعلق اہم فیصلے کئے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق دو روز تک جاری رہنے والے اجلاس میں طے پایا کہ اسلام آباد اور تہران دہشت گردی بالخصوص سرحدی علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے دوطرفہ تعاون کو مزید بہتر کریں گے۔ نیز دونوں ملکوں کی سرحد پر سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔

سیکیورٹی سے متعلق ایرانی وزیر داخلہ کے معاون نے پاکستانی سیکیورٹی حکام سے ایرانی حکومت کی مخالف مسلح بلوچ تنظیموں کے بعض عہدیداروں کی حوالگی کا مطالبہ کیا، جنہیں چند دن قبل پاکستان نے گرفتار کیا تھا۔

یاد رہے کہ بلوچ تنظیم جیش العدل نے گذشتہ ہفتہ بلوچستان کے علاقے نصرت آباد سے ایران کی ایلیٹ قدس فورس کے 18 اہلکاروں کو گرفتار کیا۔ ان افراد کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ شام اور عراق میں قدس فورس کو تربیت دینے والے غیر ملکی ٹرینیرز تھے۔

جیش العدل ایران میں ایسے وفاقی نظام کے قیام کے لئے کوشاں ہے جس میں بلوچوں سمیت تمام غیر فارسی اقلیتوں اور بالخصوص اہل سنت کے حقوق محفوظ بنائے جا سکیں۔

ایرانی حکومت پر الزام ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے ساتھ ملنے والی جنوبی مشرقی سرحد پر واقع بلوچستان سیستان صوبے میں مقیم تیس لاکھ بلوچ آبادی سے نسلی اور فرقہ وارانہ تعصب روا رکھے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں