سعودی عرب نے یمن آپریشن کے خاتمے کا اعلان کر دیا

امام کعبہ حکومت کی دعوت پر پاکستان کا چار روزہ کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی فوج کا یمن کے اندر جاری فوجی آپریشن 'فیصلہ کن طوفان' ختم کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب تقریباً ایک ماہ سے یمن کے حوثی قبائل کے خلاف کارروائی میں مصروف تھا۔

فوجی ترجمان بریگیڈئر جنرل احمد العسیری کے مطابق اس کارروائی میں اتحادی افواج نے کامیابی کے ساتھ حوثیوں کے بلیسٹک میزائل اور دوسرے بھاری گولا بارود کے ذخیرے اور اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز تباہ کر دیئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یمن کا آپریشن اب فوجی کے بجائے سیاسی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

اس تنازعہ میں پاکستانی حکومت پر اس وقت دباؤ آیا جب سعودی عرب نے پاکستان سے یمن میں کارروائی کے سلسلے میں فوجی مدد طلب کی۔ تاہم پانچ روز تک پارلیمنٹ میں جاری رہنے والے اجلاس کے بعد سعودی عرب کے مطالبے کو نظر انداز کیا گیا حکومت کو مذکورہ معاملے میں غیر جانبدار رہنے پر زور دیا گیا ۔

تاہم پاکستانی قانون سازوں کی جانب سے یمن کے بحران میں پاکستانی حکومت سے غیرجانبدار رہنے کے مطالبے پرسعودی عرب کا قریبی اتحادی ملک متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے سخت ردّعمل سامنے آیا ۔

سعودی عرب کی سربراہ میں اتحادی افواج نے چھبیس مارچ کو یمن میں حملے شروع کئے تھے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق حملوں میں اب تک نو سو چوالیس افراد ہلاک جبکہ 3 ہزار 487 زخمی ہو چکے ہیں۔

ادھر امام کعبہ ڈاکٹر خالد الغامدی پاکستان کے دورے پر جمعرات کو پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امام کعبہ کو اس دورے کی دعوت وفاقی حکومت نے دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق امام کعبہ دو دن لاہور جبکہ دو دن اسلام آباد میں قیام کریں گے۔ اس دورے میں وہ بحریہ ٹاون لاہور کی مسجد میں نماز جمعہ پڑھائیں گے۔ پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف، ڈاکٹر خالد الغامدی کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں