نئے امریکی بحری جنگی جہاز یمن کی جانب روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزارت دفاع "پینٹا گون" نے اطلاع دی ہے کہ بحریہ نے طیارہ بردار نئے جنگی بحری بیڑے اور میزائلوں سے لیس بحری جہاز یمن کے پانیوں کی طرف روانہ کردیے ہیں۔ وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تازہ عسکری کمک یمن کے پانیوں میں بھجوانے کا مقصد صنعاء میں جاری لڑائی کے وسعت اختیار کرنے کی صورت میں خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

واشنگٹن میں العربیہ کی نامہ نگار نادیہ البلیسی کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جنگی بحری جہازوں کی یمن کے سمندر میں روانگی کا مقصد خطے میں بحری ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا اور بحری جہازوں کی معمول کی نقل وحرکت کا تحفظ کرنا ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے اپنے جنگی بحری جہازوں کو صرف دفاعی نقطہ نظر سے یمن بھیجا جا رہا ہے۔ امریکا کی جانب سے یمن میں کسی قسم کی فوجی کارروائی کا امکان بہت کم ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کےترجمان کرنل اسٹیف وارین نے خبروں کی تردید کہ جنگی بحری جہاز ایران کے ان بحری جہازوں کو روکنے کے لیے بھیجے گئے ہیں جو مبینہ طورپر یمن میں حوثی باغیوں کو اسلحہ مہیا کررہے ہیں۔

العربیہ کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی بحری بیڑے تھیوڈور روزویلٹ اور نورمینڈی کے ساتھ شامل کیے گئے ہیں جو اتوار کے روز خلیج عرب سے بحر عرب کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ خیال رہے کہ امریکا کے دو بحری بیڑوں کے ساتھ معاونت کے لیے ساتھ جنگی جہاز پہلے سے موجود ہیں۔

دوسری جانب امریکی حکام ان سات ایرانی مال بردار بحری جہازوں کی مانیٹرنگ کررہے ہیں جو ممکنہ طور پر یمن کی جانب روانہ کئے گئے ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ آیا ان پر کس قسم کا سامان لادا گیا ہے۔

وائیٹ ہائوس کے ترجمان جوش ایرنسٹ کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ ایران کے کچھ بحری جہاز نامعلوم سامان کے ہمراہ یمن کی طرف رواں دواں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایران کی جانب سے یمن کے حوثی باغیوں کو اسلحہ کی ذریعے امداد کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ امریکا کا یمن کے حوثیوں کی ایران نوازی کے بارے میں موقف واضح ہے۔ امریکی اسلحہ سے خطے میں دیر پا امن کی مساعی کے بجائے تشدد میں اضافہ ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں