.

افغان، پاکستانی جنگجوئوں کی شام کی جنگ میں شمولیت کے اہم محرکات!

پیسہ، ایران میں اپنی بقاء اور جہادی فریضہ اہم اسباب قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے کے لیے ایران سے آئےوالے ایک افغان جنگجو کا بیان سامنے آیا ہے جس نے جنگ میں حصہ لینے کے تین اہم محرکات بیان کیے ہیں اور بتایا ہے کہ شام کی لڑائی میں حصہ لینے کے عوض انہیں پیسے فراہم کیے جاتے ہیں۔ وہ ایران میں اپنی بقاء کے لیے بھی اس جنگ میں حصہ لینے پر مجبور ہیں کیونکہ جنگ سے انکار کرنے پر ہمیں ایران سے نکالا جاسکتا ہے۔ نیز ہم شام کی جنگ میں شرکت کرنے کو ’مذہبی فریضہ‘ سمجھتے ہیں اور اس میں حصہ لینے کو جہاد قرار دیتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق شام میں بشارالاسد کی وفاداری میں لڑنے والے افغان جنگجو کا یہ انٹرویو فارسی زبان میں شائع ہونے والے اخبار ’’کیہان لندن‘‘ میں چھپا ہے۔ اخبار نے جنگجو کی شناخت ظاہر نہیں کی جس نے بتایا کہ ایران میں مقیم افغان مہاجرین کی بڑی تعداد پاسدران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم تنظیم "القدس بریگیڈ" کے پرچم تلے جنگ میں شریک ہے۔ تقریبا سبھی جنگجوئوں کی شمولیت کے اسباب ایک ہی ہیں۔

خیال رہے کہ پچھلے چار سال سے شام میں جاری لڑائی کے دوران ایران نے بار بار شام میں اپنی براہ راست مداخلت کی تردید کی ہے لیکن اس کےباوجود ایران کی بیرون ملک تنظیم ’’القدس فورس‘‘ کے جنگجوئوں کی شام، ایران اور یمن میں موجودگی کے ناقابل تردید شواہد بھی موجود ہیں۔

ایران کے ہزار انکار کے علی الرغم شام میں افغانی، پاکستانی اور لبنانی جنگجوئوں کی بڑی تعداد’’تکفیری انتہا پسندوں‘‘ کی سرکوبی کی آڑ میں محاذ جنگ پر بھیجی جاتی رہی ہے۔ شام کے محاذ پرنہ صرف غیرفوجی جنگجوئوں کی موجودگی کے شواہد ملتے رہے ہیں پاسداران انقلاب کے سینیر افسران بھی جنگ میں مارے جاتے رہے ہیں۔

شمولیت کے اسباب

افغان جنگجو نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ شام کے محاذ جنگ پر موجود افغان اور پاکستانی جنگجو ’’فاطمیون‘‘ بریگیڈ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس نے بتایا کہ ایران میں ان افغان پناہ گزینوں کو شام کی جنگ میں دھکیلا جاتا ہے جو اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھتے والے ہزارہ قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سے اجرتی قاتلوں کا کام لیا جاتا ہے۔ صرف افغان جنگجو ہی نہیں بلکہ پچھلے تین سال سے لبنانی اور پاکستانی اجرتی قاتل بھی ’’فاطمیون‘‘ بریگیڈ میں شامل ہو رہے ہیں۔

جنگ میں شمولیت کے اسباب ومحرکات کے بارے میں بات کرتے ہوئے افغان جنگجو کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں جنگ میں شمولیت کی معقول اجرت دی جاتی ہے۔ اجرت کی لالچ کے علاوہ ہمیں ایران سے نکالنے جانے کا ڈر بھی رہتا ہے۔ اگر ہم شام کی لڑائی میں جانے سے انکار کریں تو ہمیں ایران سے نکالا جاسکتا ہے۔ پہلی فرصت میں ہمیں تین ماہ کے لیے شام بھیجا جاتا ہے، جس کے بعد ہمیں 20 دن کی رخصت ملتی ہے۔ جس کے بعد ہمیں دوسری بار زیادہ عرصے کے لیے شام کے محاذ پر بھیجا جاتا ہے۔ ایسے غیر فوجی جنگجوئوں کو 530 سے 700 امریکی ڈالر کے برابر اجرت دی جاتی ہے۔ ایرانی کرنسی میں یہ رقم ایک سے ڈیڑھ ملین تومان کے درمیان ماہانہ ہوتی ہے۔ بعض اوقات اجرت اس سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔

پاکستانی اور افغان جنگجوئوں کے کام کی نوعیت

ایک سوال کے جواب میں افغان اجرتی جنگجو نے بتایا کہ القدس فورس کے ذریعے شام بھجوائے گئے غیر ایرانی جنگجوئوں کو مختلف نوعیت کی ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔ خاص طورپر پاکستانی اور افغان جنگجوئوں کو نہایت خطرناک محاذوں پر رکھا جاتا ہے جہاں گھمسان کی لڑائی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جو علاقے باغیوں سے چھڑائے جاتے ہیں، ان کے دفاع پربھی پاکستانی اور افغان جنگجوئوں کو مامور کیا جاتا ہے۔

جنگجو نے بتایا کہ ایران میں اہل تشیع مسلک کے افغان نوجوانوں کو شام کی جنگ میں بھرتی ہونے کے لیے باقاعدہ مہم چلائی جاتی ہے۔ایران میں جا بجا افغان پناہ گزینوں کی مساجد اور امام بارگاہیں موجود ہیں۔ مساجد کے آئمہ افغان پناہ گزینوں کو شام کی جنگ میں شرکت کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دینے کی تلقین کرتے ہیں۔ بہت سے جنگجو آئمہ کی تقاریر سن کر شام روانہ ہونے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ انہیں کہا جاتا ہے کہ شام اور عراق میں موجود مقدس مقامات کا دفاع ان کا مذہبی فریضہ ہے اور انہیں اس فریضہ کی ادائی کے لیے ان ملکوں میں جاری لڑائی میں حصہ لینا چاہیے۔