.

امریکا، ایران کا یمن میں فوجی آپریشن ختم کرنے کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں یمن حوثی باغیوں کے خلاف جاری ’’فیصلہ کن آپریشن‘‘ کو ختم کرنے کے اعلان پر امریکا اور ایران نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور فوجی کارروائی روکے جانے کے فیصلے کی تحسین کی ہے۔

وائٹ ہائوس کے ترجمان الیسٹر پاسکی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی فوجی کارروائی روکا جانا ایک قابل تحسین اقدام ہے۔ اس سے مسئلے کے بات چیت کے ذریعے حل کی راہ ہموار ہوگی۔

ترجمان نے کہا کہ یمن میں حوثی باغیوں کی کارروائیوں کا روکا جانا بھی ضروری ہے تاکہ مسئلے کا کوئی درمیانی حل تلاش کیا جاسکے۔ سعودی عرب کی جانب سے فیصلہ کن آپریشن روکنے کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا یمن میں مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کا حامی رہا ہے۔ یمن میں فوجی کارروائی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ریاض حکومت نے یمن میں آپریشن روک کر ایک اچھا فیصلہ کیا ہے۔ تمام فریقین کو اب ’’بحالی امید‘‘ آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

درایں اثناء ایرانی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان مرضیہ افحم نے بھی یمن میں سعودی عرب کے فوجی آپریشن کے روکے جانے کا خیر مقدم کیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق مرضیہ افحم نے تہران میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے اقدام سے یمن میں مفاہمتی عمل آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

خیال رہے کہسعودی عرب نے یمن میں 26 مارچ جو فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ ایک ماہ کے قریب جاری رہنے والی لڑائی کے بعد گذشتہ روز ریاض حکومت کی جانب سے فوجی آپریشن روکنے اور ’بحالی امید‘ آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

امریکا کی ایران کو تنبیہ

ادھر دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے ایران کو براہ راست واضح پیغام بھیجا جس میں تہران کو یمنی حوثیوں کو اسلحہ کی فراہمی پر خبردار کیاگیا تھا۔

’’ایم ایس این بی سی‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ’واشنگٹن نے تہران کو یمنی حوثیوں کی مسلح امداد کے حوالے سے صریح الفاظ میں متنبہ کیا ہے۔ ہم نے ایران کو بتا دیاہے کہ عالمی پانیوں میں اس کی نقل و حرکت اور یمنی حوثیوں کی فوجی امداد تہران کو مہنگی پڑے گی‘‘۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی میں امریکی بحری بیڑے موجود رہیں گے اور ایران کی جانب سے انہیں کسی قسم کا خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی جانب سے یمنی حوثی باغیوں کواسلحہ کی فراہمی خلیج میں بحری جہازوں کی نقل وحرکت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ایران حوثیوں کو فوج امداد مہیا کرنے سے باز ہے۔