.

باغیوں نے پرامن بات چیت کے تمام راستے مسدود کردیے تھے: ھادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدرعبد ربہ منصور ھادی نے کہا ہے کہ حوثی باغیوں اور ملک کو پیچھے دھکیلنے والوں نے یمن کو تباہی کے دھانے پہنچا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یمن تاریخ کے بدترین دور سے گذر رہا ہے۔ اندرون ملک بغاوت اور بیرونی سازشوں نے ملک برباد کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدرھادی نے یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں جاری فوجی آپریشن ’’فیصلہ کن آپریشن‘‘ کے اختتام کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا کہ حوثی باغیوں نے امن بات چیت کے ذریعے بحران ختم کرنے کے تمام راستے مسدود کردیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ملک اس وقت چھوڑا جب حوثی باغیوں نے عدن کا محاصرہ کرکے پورے ملک کو یرغمال بنا لیا تھا۔

صدر ھادی کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سازشی عناصر یمن کو تباہ کرنے صنعاء اور عدن تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ سازشیں اس وقت اور تیز ہوگئی تھیں جب یمنی قوم نے ملک کی تقسیم کے بجائے اس کی وحدت کے حق میں فیصلہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ یمن کو بحران سے بچانے کے لیے تمام سیاسی دھاروں کے درمیان بامقصد مذاکرات کی باربار کوششیں کی گئیں مگر حوثی باغیوں کے خون خوار گروپ نے پرامن حل کے تمام راستے بند کردیے اور یہ ثابت کیا کہ وہ صرف بندوق کی زبان سمجھتے ہیں۔ ان کے ساتھ اسی زبان میں بات کی گئی جس کا انہوں نے خود انتخاب کیا تھا۔

صدر ھادی کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے نفرت اور عوام کے قتل عام کی سیاست کو عام کیا۔ ایران کے ساتھ مل کر اشتعال انگیز جنگی مشقیں کیں اور پڑوسی ملکوں کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ ایرانی تجربے کی یمن میں پیوند کاری کی کوشش کی گئی۔ جس کے نتیجے میں ملک تباہی کے دھانے پہنچ گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سابق صدر علی صالح اور حوثیوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے 10 نکات پراتفاق ہوا تھا تاہم بعد ازاں حوثیوں اور علی صالح نے بد عہدی کی تھی۔