.

حوثیوں کے بیس پر قبضے کے بعد سعودی فضائی حملہ

آپریشن فیصلہ کن طوفان ختم ہونے کے بعد حوثیوں کی تعز میں کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وسطی شہر تعز میں حوثی باغیوں نے ایک فوجی بریگیڈ پر قبضہ کر لیا ہے جس کے فوری بعد سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے ان پر فضائی حملہ کیا ہے۔

سعودی عرب نے منگل کی شب یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف گذشتہ قریباً ایک ماہ سے جاری آپریشن فیصلہ کن طوفان ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا لیکن ساتھ ہی اس نے واضح کیا تھا کہ وقتِ ضرورت حوثیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔اس کے بعد آپریشن بحالیِ امید کے نام سے مہم کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

سعودی عرب کی جانب سے یہ اعلان سامنے آتے ہی حوثی شیعہ باغیوں نے تعز کے نواحی شمالی علاقے میں واقع پینتیسویں آرمرڈ بریگیڈ کے ہیڈکوارٹرز پر حملہ کردیا اور ان کی یمنی فوجیوں کے ساتھ خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں۔ایک فوجی افسر نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ لڑائی میں دسیوں فوجی اور جنگجو ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔

یمنی فوج کا یہ بریگیڈ حوثیوں کی شورش کے بعد صدر عبد ربہ منصور ہادی کا وفادار رہا تھا اور اس کے فوجیوں نے قریباً ایک ہفتے تک حوثی ملیشیا اور ان کے اتحادیوں کی شدید مزاحمت کی ہے۔حوثیوں نے گذشتہ ایک ہفتے سے اس بریگیڈ کے ہیڈ کوارٹرز کا محاصرہ کررکھا ہے۔

یمن کی انجمن ہلال احمر کے ایک نمائندے نے کہا ہے کہ بیس اور اس کے آس پاس شدید لڑائی کی وجہ سے انجمن کی میڈیکل ٹیموں کو وہاں تک رسائی نہیں ہوئی ہے۔