.

علی صالح بحران کے حل کے لیے مذاکرات کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح نے سعودی عرب کی جانب سے حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف آپریشن فیصلہ کن طوفان کے خاتمے کے اعلان کے بعد اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس سے بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی۔

علی صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کی ویب سائٹ المعتمر ڈاٹ نیٹ پر جاری کردہ ایک بیان کے مطابق انھوں نے کہا ہے کہ ''حملوں اور جارحیت کے آغاز کے فیصلے کو مسترد کردیا گیا تھا،اب حملوں اور جارحیت کے خاتمے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا جاتا ہے''۔

سابق یمنی صدر نے فیس بُک پر مختصر تحریر میں لکھا ہے:''ہمیں امید ہے کہ اس سے طاقت کے استعمال ،تشدد اور خونریزی کا مکمل طور پر خاتمہ ہوجائے گا''۔سعودی عرب کی وزارت دفاع نے منگل کو یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف گذشتہ قریباً ایک ماہ سے جاری ''آپریشن فیصلہ کن طوفان'' کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اپنے نشریے میں واضح کیا تھا کہ آپریشن اب سیاسی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے مگر ضرورت پڑنے پر حوثی باغیوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

سعودی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل احمد العسیری نے الریاض میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اتحاد حوثی ملیشیا کو یمن کے اندر پیش قدمی اور کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکنے کے لیے آپریشن جاری رکھے گا''۔

سعودی عرب کی قیادت میں الریاض میں قائم فوجی اتحاد کی مرکزی کمان نے یمن میں آپریشن بحالیِ امید کے نام سے ایک نئی مہم کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔اتحاد کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق 26 مارچ کو شروع کیے گئے آپریشن کے مقاصد حاصل ہوگئے ہیں۔