.

یمن: ڈرون حملے میں القاعدہ کے 7 مشتبہ جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی ساحلی شہر المکلا میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں القاعدہ کے سات مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق امریکی ڈرون نے جنوب مشرقی صوبے حضرموت کے دارالحکومت المکلا میں صدارتی محل کے نزدیک کھڑی ایک گاڑی کو حملے میں نشانہ بنایا تھا اور اس میں سوار تمام سات افراد مارے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا ہی ایسا ملک ہے جس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ یمن میں القاعدہ کے جنگجوؤں کو ڈرون حملوں نشانہ بنا رہا ہے لیکن امریکی حکام ان حملوں کی تصدیق یا تردید نہیں کرتے ہیں۔امریکا کے انٹیلی جنس ادارے یمن میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کو اس جنگجو نیٹ ورک کی سب سے خطرناک شاخ خیال کرتے ہیں۔

القاعدہ نے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں اور سعودی عرب میں اس وقت مقیم صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کے درمیان لڑائی کا فائدہ اٹھایا ہے اور اس نے خانہ جنگی کا شکار اس ملک کے جنوب مشرقی صوبوں میں اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔القاعدہ کے جنگجوؤں نے چند ہفتے قبل المکلا میں ایک جیل پر حملہ کرکے سیکڑوں قیدیوں کو چھڑوا لیا تھا۔ان میں ان کا لیڈر خالد باطرفی بھی شامل تھا۔

امریکی وزیردفاع آشٹن کارٹر نے ایک بیان میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ یمن میں القاعدہ نے زور پکڑا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ امریکا القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔

یمن میں القاعدہ کی شاخ نے 14 اپریل کو اپنے سرکردہ نظریاتی رہ نما ابراہیم الربیش کی بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔ امریکا نے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ابراہیم الربیش کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالرز مقرر کررکھی تھی۔

انھیں امریکا نے اپنے جزیرے گوانتا نامو بے میں واقع بدنام زمانہ حراستی مرکز سے سنہ 2006ء میں رہا کیا تھا۔اس کے بعد وہ یمن میں القاعدہ میں شامل ہوگئے تھے۔انھیں اس گروپ کا مرکزی نظریاتی رہ نما خیال کیاجاتا تھا اور ان کی تحریریں اور خطبات جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی مطبوعات میں شائع کیے جاتے تھے۔