یمن: داعش نے بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی

صوبہ ایب میں گرین بریگیڈ کے بم حملے میں پانچ حوثی باغی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے حال ہی میں منظر عام پر آنے والے ایک نئے گروپ ''گرین بریگیڈ'' نے یمن میں ایک بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اس بم دھماکے میں پانچ حوثی شیعہ باغی ہلاک ہوگئے تھے۔

اس گروپ نے جمعرات کو ٹویٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے وسطی صوبے ایب کے شہر یاریم میں بدھ کو حوثی باغیوں کی ایک گاڑی کو دھماکے سے اڑادیا تھا۔

صوبہ ایب میں داعش کا یہ پہلا بم حملہ ہے۔ایب شہر کے مکینوں نے جمعرات کو سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کے ایک فضائی حملے کی بھی اطلاع دی ہے۔اس حملے میں حوثی باغیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

قبل ازیں داعش نے 20 مارچ کو یمنی دارالحکومت صنعا میں حوثی زیدیوں کی مساجد میں خودکش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ان بم دھماکوں میں ایک سو بیالیس افراد ہلاک اور ساڑھے تین سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ یمن کے جنوبی اور جنوب مشرقی صوبوں میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے لیکن اب آہستہ آہستہ داعش بھی خانہ جنگی کا شکار اس ملک میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہی ہے۔القاعدہ اور حوثی باغیوں کے درمیان اب تک دو ایک مقامات پر ہی براہ راست جھڑپیں ہوئی ہیں جبکہ داعش نے حوثیوں کے زیر قبضہ شہروں میں بم دھماکے کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں