ترک اپوزیشن لیڈر کی شامی پناہ گزینوں کو ملک سے نکالنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی کی موجودہ اسلام پسند حکومت شام میں خانہ جنگی سے فرارہونے والے لاکھوں باشندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے جبکہ دوسری جانب ترک اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وہ اپنے ملک میں موجود تمام شامی پناہ گزینوں کو نکال باہر کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک اپوزیشن جماعت ’’پیپلز ری پلیکن‘‘ کے لیڈر کمال قلیت شدار اوگلو نے ریاست مرسین میں اپنے حامیوں کے ایک مجمع سے خطاب میں کہا کہ سات جون کو پارلیمنٹ کے انتخابات میں جیتنے کے بعد ملک میں موجود تمام شامی پناہ گزینوں کو نکال باہر کروں گا۔

مسٹر قلیتشدار اوگلو کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جلد امن قائم ہوگا۔ لیکن اس کے لیے ہر ملک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز آئے۔ "انتخابات میں کامیابی کی صورت میں میَں مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے ٹھوس اقدامات کروں گا۔ ترکی میں موجود تمام شامی پناہ گزینوں سے کہوں گا۔ معذرت! آپ لوگ اپنے ملک واپس جائیں ہم کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتے۔ ہر شخص کو اپنے وطن میں خوشی کے ساتھ زندگی گذارنے کا حق حاصل ہے۔ اگر کوئی ملک دوسرے کو تباہ کرنے کے لیے اسلحہ بھیج رہا ہے تو ہم بھائی چارہ اور دوستی بھیجیں گے۔ ہم ان کے عزیز اور وہ ہمارے عزیز ہیں۔ ہم بیٹھ کر بات کریں گے اور ملکوں کے بیچ تنازعات کو مفاہمت سے حل کریں گے۔ ہم ہی مشرق وسطیٰ میں امن قائم کریں گے۔ ہم انسان سے محبت اور احترام کرتے ہیں اور یہی ہماری سیاست کا اصول ہے۔"

میڈیا رپورٹس کے مطابق جب ترک اپوزیشن رہ نما نے شامی پناہ گزینوں کو اپنے ملک سے نکال دینے کی بات کی تو شرکاء نے ان کے حق میں تالیاں بجائیں۔

خیال رہے کہ ترکی میں سیکولر نظریات کی حامل پیپلز ری پبلیکن پارٹی ماضی میں انتخابات میں حصہ لتی رہی ہے مگر وہ کبھی اقتدار تک نہیں پہنچ سکی ہے۔

کچھ عرصہ قبل سابق ترک وزیراعظم [موجودہ صدر] رجب طیب ایردوآن نے کہا تھا کہ شامی پناہ گزینوں کو ان کے ملک میں واپس کرنے والا شخص ایک دن بھی عہدے پر فائز نہیں رہ سکے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں