.

ریاض، پاکستان سربراہی ملاقات میں یمن کی صورتحال پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف جمعرات کو ایک روزہ دورے پر ریاض پہنچے، جہاں ان کی سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز سے ملاقات ہوئی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق شاہ سلمان سے العوجا شاہی محل میں ہونے والی ملاقات میں وزیر اعظم نواز شریف نے حالیہ بحران میں سعودی قیادت کو مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ یمن کے معاملے پر پاکستان نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔

وزیر اعظم نےخطے میں امن و استحکام پیدا کرنے کے حوالے سے مشترکہ تجاویز کا بھی خیر مقدم کیا۔ اس سے قبل ایئر پورٹ پر وزیر اعظم کا استقبال سعودی وزیر داخلہ نائب ولی عہد نايف بن عبدالعزیز اور وزیر دفاع پرنس محمد بن سلمان نے کیا۔ وزیر اعظم کو سعودی فوج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔

وزیر اعظم کے ہمراہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری بھی سعودی عرب گئے ہیں۔ دوران سفر طیارے میں وزیر اعظم نواز شریف نے ایک اہم اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں یمن کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ سعودی عرب کا فیصلہ گزشتہ روز یمن کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق سول اور عسکری قیادت کے اس مشترکہ دورے کا مقصد اس حوالے سے سعودی عرب کا اعتماد بحال کرنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامت و دفاع کے لیے کمر بستہ ہے۔

دورے کے دوران وزیر اعظم نواز شریف سعودی قیادت سے یمن کشیدگی میں پاکستان کے تعاون اور دیگر امور پر بات چیت کریں گے۔دو ماہ کے دوران وزیر اعظم نواز شریف کا سعودی عرب کا یہ دوسرا دورہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم اعلی سطحی دورے پر سعودی عرب گئے ہیں ان کے ساتھ آرمی چیف، وزیر دفاع اور طارق فاطمی بھی موجود ہیں ۔ سعودی عرب پہنچنے پر سعودی شہزادے اور وزیر دفاع نے وزیر اعظم کا پرتپاک استقبال کیا۔