.

داعش کی نئے جنگجوئوں کو سعودی عرب میں حملوں کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ ’’داعش‘‘ نے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے اپنے نئے جنگجوئوں کو ہدایات جاری کی ہیں۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ داعش کو سعودی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں لگنے والی کاری ضرب اور دہشت گردی کی کئی سازشوں کے ناکام بنائے جانے کےبعد سخت مایوسی کا سامنا ہے تاہم دہشت گرد گروپ سعودی عرب میں حملوں کے لیے اپنے نئے جنگجوئوں کو ہدایات دے رہی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت داخلہ کی جانب سے جمعہ کوریاض میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا گیا کہ داعش ریاض کے خلاف نفسیاتی جنگ لڑ رہی ہے۔ سعودی عرب میں حال ہی میں حراست میں لیے گئے داعشی جنگجو یزید ابو نیان کو داعش نے سوشل میڈیا کے ذریعے بھرتی کیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ داعش بیرون ملک سے سعودی عرب کے اندر کارروائیوں کی منصوبہ بندی کررہی ہے اور مقامی نوجوانوں کو اپنے چنگل میں پھنسانے کے بعد دہشت گردی کی کارروائیوں کی سازش کررہی ہے۔

نیوز کانفرنس سے کچھ ہی دیر قبل سعودی عرب کی پولیس نے ریاض میں تین مشتبہ کاروں کو روک کر ان کی تلاشی لی جن سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود قبضے میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے یزید ابو نیان نامی ایک جنگجو کو حراست میں لیا ہے جس نے سعودی عرب میں دہشت گردی کی سازش تیار کرنے اور شام میں سرگرم داعش کے حکم سے سعودی عرب میں افراتفری پھیلانے کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا ہے۔

وزارت داخلہ کے عہدیدار بریگیڈیئر بسام العطیہ نے بتایا کہ زیرحراست داعشی جنگجو یزید ابو نیان کی عمر 23 سال ہے۔ وہ سوشل میڈٰیا کے ذریعے داعش کے گمراہ کن پروپیگنڈے کاشکار ہوا۔ داعش نے اسے سعودی عرب کے اندر کارروائیوں کے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں دہشت گردی کی خطرناک سازش ناکام بنا دی گئی ہے۔

بریگیڈیئر عطیہ نے بتایا کہ سعودی عرب میں دہشت گردی کی سازش میں حراست میں لیے گئے دوسرے ملزم کی شناخت 29 سالہ نواف العنزی کے نام سے کی گئی ہے۔ العنزہ پہلے بھی سعودی سیکیورٹی اداروں کو دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں مطلوب تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ملزمان شام اور دوسرےملکوں کا سفر بھی کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگجو کم عمرلڑکوں کو اپنے جال میں پھنسا کرانہیں دہشت گردی جیسے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کم عمر نوجوانوں کو پھنسانے کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔