.

یمن سے متعلق پاکستانی پارلیمانی قرارداد پر ایران اثرانداز؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی شدت پسندوں کی سرکوبی کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں آپریشن "فیصلہ کن طوفان" میں پاکستان کی شمولیت کے فیصلے سے متعلق پارلیمنٹ کی قرارداد، جس میں پاکستان کو یمن جنگ میں غیر جانب دار رہنے کی سفارش کی گئی تھی ابھی تک وجہ نزاع بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پارلیمنٹ کی قرارداد 18 کروڑ پاکستانیوں کی نمائندہ ہے تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کی قرارداد عوام کی آواز ہرگز نہیں ہے۔

پاکستانی حکومت نے سیاسی جماعتوں اورعسکری قیادت سے صلاح مشورے کے بعد سعودی عرب کے یمن میں "فیصلہ کن طوفان" آپریشن کا فیصلہ کیا مگراس فیصلے کی حتمی منظوری پارلیمنٹ کی اجازت سے مشروط قراردی۔ پارلیمنٹ کے پانچ روز تک جاری رہنے والے مشترکہ اجلاس میں آخرکار ایک قرارداد منظور کی گئی۔ ایوان میں موجود 446 ارکان میں سے 50 کی اکثریت نے پاکستان کو یمن جنگ میں غیر جانب دار رہنے کے حق میں رائے دی۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کی قرارداد کو’بائی پاس‘ کرنا حکومت کے لیے قانونی طورپر درست نہیں اس لیے حکومت نے بھی پارلیمنٹ کا فیصلہ قبول کیا اور اس قرارداد کو کسی دوسرے ادارے میں چیلنج نہیں کیا ہے۔

پارلیمنٹ کے پانچ روزہ مشترکہ اجلاس میں پاکستان کی کم وبیش تمام نمائندہ سیاسی قوتوں نے سعودی عرب اور اسلام آباد کے درمیان دیرینہ تعلقات پرتفصیل سے روشنی ڈالی۔ سبھی نے پاکستان کے لیے سعودی عرب کی اہمیت کو تسلیم کیا اور سب نے یہ یقین بھی دلایا کہ اگرسعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو پاکستان ریاض کے ساتھ کھڑا ہوگا تاہم اختلاف یمن میں سعودی عرب کے فوجی آپریشن پر پیدا ہوا اور بیشتر سیاسی جماعتوں نے حکومت کو اپنی فوج یمن بھیجنے کے بجائے مفاہمتی کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ بعض جماعتوں کی جانب سے غیر مشروط طورپر اپنی فوجیں سعودی عرب روانہ کرنے کے حق میں رائے دی گئی۔ کچھ نے صرف سعودی عرب کے اندرامن وامان کے قیام اور حرمین کے تحفظ کے لیے اپنی افواج کی خدمات کو پیش کرنے کی حمایت کی جبکہ بعض جماعتوں کی جانب سے کسی دوسرے ملک میں اپنی فوجیں بھیجنے کی سخت مخالفت بھی کی۔ اس کے باوجود پاکستانی پارلیمنٹ سے ایک ’متوازن‘ قرارداد منظور کرالی گئی جس کی دو شقوں اس بات کی ضمانت دی گئی کہ سعودی عرب کی سلامتی اور خود مختاری کو خطرہ ہوا تو پاکستان اپنی تمام تر توانائیاں ریاض کے دفاع کے لیے صرف کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب سمیت خلیج تعاون کونسل کے ساتھ ہرمحاذ پرتعاون جاری رکھے گا۔ قرارداد میں یمن میں حوثی باغیوں کی حکومت کو مسترد کرتےہوئے آئینی حکومت کی بحالی کی کھل کرحمایت کا اظہار کیا گیا۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ یمن کے بحران کے سیاسی حل کے لیے اپنا سفارتی کردار ادا کرے۔

پارلیمنٹ کی قرارداد کے بعد اندرون اور بیرون ملک سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا توقرارداد کے حوالے سے کئی قسم کے شکوک وشبہات نے بھی جنم لیا۔ چنانچہ قرارداد کی منظوری کے محض دو روز بعد وزیراعظم محمد نواز شریف کو حکومت کا پالیسی بیان جاری کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی قراراداد میں کوئی ابہام نہیں۔ قرارداد میں یمن کے بحران میں غیر جانب دار رہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان سعودی عرب اور تمام خلیجی ممالک کے دفاع سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ پاکستان یمن کے حوثی باغیوں کے اقتدار پرقبضے کو غیرآئینی سمجھتا ہے اور ملک میں آئینی حکومت کی بحالی کے ساتھ ساتھ تمام عرب ممالک کی خودمختاری، سالمیت اور سلامتی کا حامی ہے۔ سعودی عرب سمیت کسی بھی خلیجی ملک کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان فوری مدد کو پہنچے گا۔

مبصرین کے خیال میں پاکستان کو یمن کے بحران میں غیر جانب داررہنے کا مشورہ اس لیے دیا گیا کیونکہ ماضی میں بھی پاکستان دوسرے ممالک کی جنگوں میں الجھ کراپنے لیے داخلی اور خارجی مسائل کا باعث بنا ہے۔ تجزیہ نگار وجاھت علی کا کہنا ہے کہ افغان جنگ اور امریکا کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن پر کھڑے ہونے سے مجموعی طورپر ملک کو نقصان پہنچا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تو پاکستان نے بھاری قیمت چکائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر پاکستان یمن جنگ میں شمولیت اختیار کرتا ہے تو ملک میں فرقہ واریت کا خدشہ ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان داخلی طورپر دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بھارت کے ساتھ بھی سرحدی جھڑپوں میں الجھا ہوا ہے کسی نئے بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ پاک افغان سرحد پرکشیدگی کے ساتھ ساتھ ایران اور پاکستان کی سرحدوں پر بھی جھڑپیں معمول بن چکی ہیں۔ پاکستان کو روس اور چین کے ساتھ اپنے مفادات کا تحفظ بھی کرنا ہے۔ ان تمام مذکورہ داخلی اور خارجی اسباب کے پیش نظر اسلام آباد کےلیے کسی نئی جنگ میں الجھنا مشکل ہوگا۔

دوسری جانب پاکستان کی مذہبی جماعتوں کا موقف الگ ہے۔ مذہبی جماعتوں کی اکثریت پارلیمنٹ کی قرارداد سے متفق نہیں۔ یہ جماعتیں پارلیمانی قرارداد کو ایک ’’سازش‘‘ سے تعبیر کرت ہیں۔ ان میں بعض جماعتیں تو پارلیمنٹ کا حصہ ہیں اور کچھ پارلیمنٹ سے باہرہیں۔ انہوں نے مل کرسعودی عرب کی حمایت اور دفاع حرمین شریفین کے لیے بڑے پیمانے پر ملک میں مظاہرے بھی کیے ہیں اور حکومت سے باربار مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں حوثی باغیوں کی سرکوبی کے لیے سعودی عرب کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہو اور اپنی فوجیں سعودی عرب روانہ کرے۔

وجاھت علی کا کہنا ہے کہ ایران نے پاکستانی پارلیمنٹ کی قراراداد پراثرانداز ہونے کی کوشش کی اور سفارتی اور سیاسی محاذ پرتہران کی جانب سے پاکستان کو سعودی عرب کے فوجی آپریشن میں شمولیت سے روکنے کی بھرپور مہم بھی چلائی گئی تاہم اس کے باوجود پارلیمنٹ نے ایک ایسی قرارداد منظور کرلی جس میں سعودی عرب کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہرقدم اٹھانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ جب قرارداد پر ابہام پیدا ہوا تو نوازشریف نےخود پالیسی بیان کے ذریعے وضاحت کی کہ ان کی حکومت ہرمشکل میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

تاہم ایک دوسرے تجزیہ نگار حسن عبداللہ کا کہنا ہے کہ ایران بالواسطہ طور پر پارلیمنٹ سے اپنی مرضی کی قرارداد منظور کرانے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ ایران کی ایک بڑی کامیابی ہے کہ اس نے اپنے حامیوں کواستعمال کرتے ہوئے پاکستان کو ’’فیصلہ کن طوفان‘‘آپریشن میں شمولیت سے روک دیا۔

حسن عبداللہ کا کہنا ہے کہ اہل تشیع مسلک کا با اثرطبقہ سمجھا جاتا ہے جس سے وابستہ شخصیات تمام اہم اداروں میں موجود ہیں۔ اس لیے حکومت اہل تشیع طبقے کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ نیز پاکستان میں پارلیمنٹ فیصلہ سازی کا ایک خود مختار ادارہ ہے جو کسی بھی بیرونی دبائو سے آزاد فضاء میں فیصلے کرتا ہے۔ اس لیے اگر حکومت نے سعودی عرب کی قیادت میں یمن جنگ میں کودنے کا فیصلہ کیا بھی تھا تو پارلیمنٹ نے اسے روک دیا۔

جہاں تک اہل تشیع کا تعلق ہے تو وہ سنی اکثریتی ملک کی کل آبادی کا 20 فی صد ہیں۔ ان کے کئی چوٹی کے رہ نما بڑی سیاسی جماعتوں ، حکومت کے اعلیٰ عہدوں، ذرائع ابلاغ اور فوج میں بھی موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ایرن کےدرمیان ثقافتی تعلقات کی بھی طویل تاریخ ہے۔ دونوں ملک ایک دوسرے کی ثقافت کے فروغ اور طلباء کا تبادلہ کرتے ہیں۔ پاکستان کے کئی شہروں میں ایران کے کلچرل سینٹر قائم ہیں۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ مگر پاکستان کے خارجہ اور سیکیورٹی سے متعلق حتمی فیصلوں کا اختیار فوج کےپاس ہے۔