.

20 سالہ اردنی شہزادہ یو این سلامتی کونسل کا صدر مجلس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے بیس سالہ ولی عہد پرنس الحسین بن عبداللہ دوم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کا اعزاز حاصل کر لیا ہے اور وہ اس عالمی فورم کی صدارت کرنے والی کم عمر ترین شخصیت ہیں۔

شہزادہ حسین نے جمعرات کو سلامتی کونسل میں ''نوجوان متشدد انتہا پسندی پر کیسے قابو پاسکتے ہیں'' کے موضوع پر بحث کا آغاز کیا ہے۔اردن اس ماہ سلامتی کونسل کا صدر ملک ہے۔

شہزادہ حسین نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ''اس وقت دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی تیس سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے اور ان میں سے زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں رہ رہے ہیں۔انھوں نے متشدد انتہا پسندی کو ایک زہریلا نظریہ قرار دیا ہے۔

یونیورسٹی آف مشی گن کے ماہر بشریات اسکاٹ اٹران نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے ممالک کو اپنے نوجوانوں کی پوشیدہ توانائیوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ہم ان کے آئیڈیلز کا احساسات نہیں کرتے تو پھر ان کا جنونی نظریات کے پیروکار بننے کا خطرہ موجود رہے گا۔

اردن کے ولی عہد نے کونسل سے اپیل کی کہ ''وہ نوجوانوں کو تشدد اور تخریب کا ہدف بننے کے لیے تنہا چھوڑنے کے بجائے ان کی شراکت دار بنے۔ہمیں نوجوانوں کو انسانیت کے دشمنوں کے ہاتھوں برباد ہونے سے روکنے کے لیے خلا کو پُرکرنا ہوگا''۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں نوجوانوں کو معیاری تعلیم ،ملازمت کے مناسب مواقع اور بہتر معیار زندگی سے آراستہ کرنا ہوگا۔ان مقاصد کے حصول کے لیے انھیں بااختیار بنانا ہوگا۔

انھوں نے اگست میں اقوام متحدہ کی شراکت سے اردن میں ''پائیدار امن کے قیام میں نوجوانوں کے کردار'' کے موضوع پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی اعلان کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے کہا ہے کہ شہزادہ اکیس سال کی عمر کا نہیں ہے بلکہ وہ اکیسویں صدی کا لیڈر ہے۔انھوں نے نوجوان نسل کو آن لائن برپا کی جانے والی نفرت انگیز اور تشدد پسند مہموں سے بچانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔