ریاض میں دہشت گردی کی بڑی سازش ناکام بنا دی گئی

انتہائی مطلوب دہشت گردگرفتار، بارود سے بھری گاڑیاں بھی ضبط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے رواں ماہ کے اوائل میں ریاض میں دہشت گردی کی ایک خطرناک کارروائی میں ملوث اشتہاری دہشت گرد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق دو روز قبل دارلحکومت کے ایک مکان پر چھاپہ مار کر دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ ’’داعش‘‘ کے ایک شدت پسند کو حراست میں لیا گیا جس نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ وہ ریاض میں دو سعوی سپاہیوں کا ماسٹر مائنڈ ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر منصور الترکی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ اپریل کے شروع میں مشرقی ریاض میں نامعلوم کار سے سیکیورٹی فورسز کی ایک گشتی پارٹی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو سپاہی ثامر عمران المطیری اور عبدالمحسن خلف المطیری شہید ہو گئے تھے۔ پولیس نے کارروائی کرکے ریاض شہرسے ایک مشکوک مکان سے 23 سالہ دہشت گرد یزید بن محمد عبدالرحمان ابو نیان کو حراست میں لیا۔ دوران حراست دہشت گرد نے اعتراف کیا کہ اس نے دو سیکیورٹی اہلکاروں کو قتل کیا ہے۔ شدت پسند کا کہنا ہے کہ اُسے شام میں سرگرم دہشت گرد گروپ ’’داعش‘‘ کی جانب سے سعودی عرب میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

بریگیڈئر الترکی کا کہنا ہے کہ مشرقی ریاض میں ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا۔ دوران تفتیش اس نے اہم اعترافات کے ساتھ اپنے ایک دوسرے دہشت گرد ساتھی کا بھی انکشاف کیا جس کی شناخت ’’برجیس‘‘ کے فرضی نام سے کی گئی۔ پولیس کی تلاشی کی کارروائی میں دوسرے شدت پسند کو بھی حراست میں لے لیا۔ دونوں دہشت گردوں نے بتایا کہ وہ ریاض میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تنظیم کی جانب سے انہیں سعودی عرب میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ پولیس نے تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں گولہ بارود اور 10 ہزار ریال نقد رقم بھی حاصل کی تاہم ان کے ایک تیسرے ساتھی کی تلاش جاری ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے پولینڈ ساختہ 7.62 ملی میٹر بور کی مشین گن بھی قبضے میں لی جسے آدھا میٹر زمین میں گڑھا کھود کا دبایا گیا تھا۔ دہشت گردوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اس مشین گن سمیت دیگراسلحہ کا استعمال کیا ہے۔ زمین کی کھدائی کے دوران اسلحہ کے ساتھ ذخائر اور 166 کارتوس اور 4898 سعودی عریال بھی قبضےمیں لیے۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر منصور الترکی نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے زیر قبضہ سات کاریں بھی ضبط کی ہیں جن میں سے تین میں بارود بھر کرانہیں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ کاروں کی تلاشی کے دوران 4500 ریال کی رقم اور تین موبائل فون بھی ملے ہیں۔ ایک موبائل فون ایک کار میں رکھا گیا تھا جبکہ دو موبائل ڈیوائسز زمین میں دبائی گئی تھیں۔ ان موبائل فون کی چھان بین سے پتا چلا ہے کہ دہشت گردوں کے شام میں موجود عسکریت پسندوں کے ساتھ رابطے تھے اور ان کے درمیان ایس ایم ایس کے ذریعے تبادلہ خیال بھی ہو رہا تھا۔ موبائل فون کے ریکارڈ سے ایک ویڈیو کال بھی ملی ہے جس میں دہشت گردی کی ایک کارروائی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حراست میں لیا گیا ’’برجیس‘‘ نامی دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے پہلے بھی متعدد کارروائیوں میں مطلوب تھا اور اس کے سرکی قیمت ایک ملین ریال مقرر کی گئی تھی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ برجیس نے اپنی اصل شناخت اپنے دوسرے ساتھی سے بھی چھپا رکھی تھی اور وہ دانستہ طور پر مراکشی لہجے میں عربی بول رہا تھا۔ یہ سب اس کا ڈرامہ تھا ۔ درحقیقت وہ سیکیورٹی حکام کو چکما دینا چاہتا تھا۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ اس کا تعلق سعودی عرب ہی سے ہے اور اس کا اصل نام نواف بن شریف بن سمیر الغنزی ہے۔ سمیر الغنزی پہلے ہی سیکیورٹی اداروں کو دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں