.

یمن کے تین شہروں میں شدید جھڑپیں،90 افراد ہلاک

تعز میں صدر منصور ہادی کے حامیوں نے حوثیوں کو بعض علاقوں سے پسپا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے تین شہروں میں اتوار کے روز صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں کم سے کم نوّے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق یمن کے جنوبی اور جنوب مغربی شہروں مآرب ،تعز اور عدن میں صدر ہادی کے وفادارسرکاری فوجیوں ،ان کے اتحادی مسلح قبائلیوں پر مشتمل عوامی مزاحمتی کمیٹیوں اور حوثی باغیوں اور ان کے اتحادی علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجیوں کے درمیان لڑائی ہورہی ہے۔

تعز کے بعض مکینوں نے بتایا ہے کہ منصورہادی کے وفاداروں نے تزویراتی اعتبار سے اہمیت کے حامل اس شہر میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا سے بہت سے علاقے واپس لے لیے ہیں۔حوثی جنگجوؤں نے ان علاقوں پر قریباً ایک ماہ قبل قبضہ کر لیا تھا اور انھیں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا لیکن اب انھیں وہاں سے پسپا ہونا پڑا ہے۔اس سے ظاہرہوتا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے فضائی حملوں نے حوثی باغیوں اور ان کی اتحادی ملیشیاؤں کی کمر توڑ دی ہے۔

درایں اثناء العربیہ نیوز چینل نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ سعودی عرب کے سرحدی محافظوں نے یمن کی سرحد کے نزدیک واقع جنوب مغربی شہر الجازان کے علاقے آل حراث میں اسلحے سے لدے ایک ٹرک اور ایک گاڑی کو تباہ کردیا ہے۔

اس خبر سے قبل ہفتے کی شب سعودی سکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقے میں دو گاڑیوں میں سوار پندرہ یمنی حوثی باغیوں کو ہلاک کردیا تھا۔ایک سعودی عہدے دار نے العربیہ کے نمائندے کو بتایا ہے کہ یہ واقعہ بھی جازان کے نزدیک پیش آیا تھا اور سعودی سرحدی محافظوں نے 800 میٹر کے فاصلے سے ٹینک شکن ہتھیار سے گولہ باری کی تھی۔

گذشتہ ہفتے اسی علاقے میں سعودی فورسز نے حوثیوں کے ایک گروپ پر توپ خانے سے گولہ باری کی تھی۔ حوثیوں کی ممکنہ دراندازی کو روکنے اور سرحد پر ان کی مسلح کارروائیوں کا توڑ کرنے کے لیے سعودی عرب کے ایک اور جنوب مغربی شہر نجران میں بھی سرحدی محافظوں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔