.

'فرانس، جرمنی نسل کشی سے متعلق بات کرنے کے قابل نہیں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے 1915ء میں عثمانی فوج کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کی ہلاکت کے واقعات کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر یورپی یونین اور عالمی طاقتوں کی جانب سے آرمینی ہلاکتوں کو نسل کشی قرار دینے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ایردوآن نے فرانس، جرمنی اور روس کی قیادت پر الزام لگایا کہ وہ آرمینیائی جھوٹ کی حمایت میں دعوے کررہے ہیں۔ ترکی کی جانب سے یہ سخت ردعمل اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی طاقتوں نے اندازاً 15 لاکھ آرمینیائی باشندوں کی عثمانی افواج کے ہاتھوں ہلاکت کو نشل کشی قرار دیا تھا جس کی ترکی نے شدید مخالفت کی تھی۔

جمعہ کے روز آرمینیا میں قتل عام کی 100 سال مکمل ہونے کی تقریب کے موقع پر فرانسیسی صدر فرانسو اولاندے نے موجودہ ترک حکومت پر زور دیا کہ وہ 1915ء کے واقعات کو نسل کشی قرار دے جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی اپنی تقریر میں اس متنازعہ لفظ کا ایک مرتبہ استعمال کیا۔

ان بیانات کے فورا بعد ترک وزارت خارجہ نے ان پر تنقید کی اور کہا کہ جرمن صدر یواخیم غاوک کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔

ایردوآن نے تاجروں کے ساتھ ملاقات کے موقع پر صحافتی نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا "ہماری خواہش تھی کہ پوتن یا اولاندے آرمینیا نہ جاتے تھے۔"

ان کا کہنا تھا "نسل کشی کے بارے میں بات کرنے والوں میں کم ازکم جرمنی، روس اور فرانس شامل نہ ہوں۔ جرمنی کی جانب سے شروع کردہ دو عالمی جنگوں میں جو کچھ ہوا ہے وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔

"انہیں پہلے ایک ایک کر کے اپنے ماضی پر لگے داغوں کو صاف کرنا ہوں گے۔"

ایردوآن نے یورپی یونین پر الزام لگایا کہ وہ سچ نہیں بول رہی ہے اور کہا "اوئے یورپی یونین! اپنی سوچیں اپنے آپ تک محدود رکھو ہمیں نہ سنائو۔" یورپی یونین کی پارلیمان نے 15 اپریل کو ایک ووٹنگ کے ذریعے سے آرمینیا کے واقعات کو نسل کشی قرار دیا تھا۔

"ان کے پاس ایسے کان ہیں جو کہ سنتے نہیں ہیں، ایسی آنکھیں ہیں جو دیکھتی نہیں ہیں اور ایسی زبانیں نہیں ہیں جو کہ سچ بول سکیں۔ آپ کو کوئی تشویش نہیں ہونی چاہئیے ہے، اگر ایسی کوئی صورتحال آتی ہے کہ آج ماضی کے واقعات کی تشویش ہوتی ہے تو ترکی اس عمل سے بالکل پریشان نہیں ہوگا۔"

ترک صدر نے امریکا پر الزام لگایا کہ وہ آرمینیا کی طرفداری کررہا ہے اور ترکی سے نفرت دکھا رہا ہے۔ مگر براک اوباما نے تنازعے سے بچنے کے لئے ایک آرمینیائی لفظ استعمال کیا جس کا لفظی مطلب بدترین تباہی بنتا ہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ وہ 1915ء کے واقعات پر آرمینیائی باشندوں کی تکلیف محسوس کرتا ہے مگر اس نے ان واقعات کو نسل کشی قرار دینے سے انکار قرار دے دیا ہے۔ ترکی کا موقف ہے کہ 1915ء میں جنگ کے دوران دونوں اطراف کے کئی لاکھ مسلمان اور عیسائی ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے پہلے پوپ فرانسس کی جانب سے آرمینیا میں ہونے والی ہلاکتوں کو بیسویں صدی کی پہلی نسل کشی قرار دینے پر ترکی کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ترکی نے ویٹیکن کے انقرہ میں سفیر کو طلب کیا اور شدید احتجاج کیا جبکہ ویٹیکن میں ترک سفیر کو واپس بلا لیا گیا۔ اس بدھ کو آسٹریا میں ترکی کے سفیر کو بھی ایسے ہی واقعہ پر واپس بلا لیا گیا۔

اس وقت 20 سے زائد اقوام نے آرمینیائی واقعات کو نسل کشی قرار دے دیا ہے۔