.

بگڑے امیرزادوں کی ایرانی سپریم لیڈر کے ہاتھوں گوشمالی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امیر زادوں کی جانب سے تیزرفتار ڈرائیونگ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ تہران میں حادثات کی وجہ سے لوگوں کے درمیان نفسیاتی عدم تحفظ بڑھتا جارہا ہے۔

خامنہ ای کی طرف سے یہ بیان دو حادثات کے بعد سامنے آیا ہے جس کے نتیجے میں پانچ ایرانی ہلاک ہوگئے تھے۔ خامنہ ای نے پولیس افسران کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکام کو تیزرفتار ڈرائیوروں سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی اور کہا کہ ایسے حادثات میں اموات سماجی امتیاز اور دوسروں کو نظر انداز کرنے کا شاخسانہ ہے۔

خامنہ ای کی ویب سائٹ www.Khamenei.ir پر جاری کردہ بیان میں ان کا کہنا تھا "مجھے بتایا گیا ہے کہ امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والے دولت کے نشے میں چور نوجوان انتہائی مہنگی گاڑیاں سڑکوں پر دوڑا رہے ہیں جس کی وجہ سے سڑکیں غیر محفوظ ہوتی جارہی ہیں۔

خامنہ ای کے مطابق یہ واقعات نفسیاتی عدم تحفظ کی مثال ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے تہران میں گزشتہ ہفتے ہونے والے دونوں ٹریفک حادثات میں سے بطور خاص کسی واقعہ کا ذکر نہیں کیا۔

منگل کے روز پیش آنے والے پہلے حادثے میں ایک بار قومی ریسنگ چیمپئین رہنے والے حامد رضا کمالی اور ان کے دو دوست تیزرفتار بی ایم ڈبلیو میں حادثے کا شکار بن کر موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔

اس کے علاوہ دوسرا حادثہ بھی منگل کے روز ہی پیش آیا جب ایک نوجوان لڑکی اپنی اسپورٹس کار 'پورش بوکسٹر' پر قابو کھو بیٹھی اور شمالی تہران میں شریعتی ایوینیو پر درختوں سے جا ٹکرائی۔ اس حادثے میں لڑکی اور اسکے ساتھ بیٹھا نوجوان دونوں ہلاک ہوگئے تھے۔

ایران میں سڑکوں کا منظم جال بچھا ہونے کے باوجود ہر سال تقریبا 20000 لوگ قوانین کی عدم پاسداری کی وجہ سے جان ہار جاتے ہیں۔