.

شاہ سلمان کا عزم ہمارے لیےمشعل راہ ہے: ولی عہد دبئی

یمن میں بغاوت عرب اقوام کی بقاء کا مسئلہ تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے ولی عہد اور مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف الشیخ محمد بن زاید آل نھیان نے سعودی عرب کا خصوصی دورہ کیا جہاں انہوں نے کہا ہے کہ خادم الحرمین الشریفین کا طرز عمل اور عزم ہم سب کے لیے عملی نمونہ اور مشعل راہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دبئی کے ولی عہد الشیخ محمد بن زاید نے گذشتہ روز سعودی عرب کی طائف گورنری کا دورہ کیا جہاں وزیر دفاع شہزادہ محمد بن نایف نے ان کا استقبال کیا۔ طائف آمد کے بعد اماراتی ولی عہد نے سعودی عرب کی عسکری قیادت سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز اور الشیخ محمد بن زاید نے طایف میں شاہ فہد فوجی اڈے کا بھی دورہ کیا اور اڈے پر یمن میں ’’آپریشن بحالی امید‘‘ کا جائزہ لیا۔

ہوائی اڈے پر سعودی عرب کی مسلح افواج سے خطاب کرتے ہوئے اماراتی ولی عہد کا کہنا تھا کہ خطے میں امن واستحکام کے قیام اور جنگ سے متاثرہ اقوام کی مالی امداد متحدہ عرب امارات کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ ابو ظہبی برادر ملکوں کو مصیبت کی گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

انہوں نے سعودی عرب کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ اور جنگی صلاحیتوں کا اعتراف کیا اور کہا کہ خطے میں دیر پا قیام امن کے لیے سعودی عرب کی مسلح افواج کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ سعودی افواج نے ہر دور میں مشکل ترین حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے غیرمعمولی معرکے سر کیے ہیں۔

عرب خطے میں استحکام اولین ترجیح

متحدہ عرب امارات کے ولی عہد الشیخ محمد بن زاید آل نھیان نے کہا کہ عرب خطے میں دیر پا قیام امن ان کے ملک کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ یو اے ای عرب ممالک میں جاری تبدیلیوں سے چشم پوشی اختیار نہیں کرسکتا۔ کسی بھی عرب ملک کو داخلی سلامتی کا مسئلہ درپیش ہوا تو امارات اس کی ہر ممکن مدد کرے گا اور کسی بھی پڑوسی ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹںے میں اس کی معاونت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ماضی میں بھی خطے کی اقوام اور ممالک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں ہر ممکن مدد مہیا کی ہے اور دشمن کی سازشوں کا مل کر مقابلہ کیا ہے۔

اماراتی ولی عہد کا کہنا تھا کہ عرب خطے کو ماضی کی نسبت زیادہ خطرناک نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں متحدہ عرب امارات عرب ممالک کے متفقہ ایجنڈے کا حصہ ہے۔ خطے کے وسائل اور اقوام کا دفاع ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ہم اس سے عہد برآ نہیں ہوسکتے۔

الشیخ محمد بن زاید نے عرب خطے کو داخلی اور خارجی خطرات سے بچانے کے لیے کم سے کم وقت میں متحدہ فوج کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خلیج عرب کے ممالک کو ہرقسم کے فتہ وفسادت اور شریرقوتوں کی شر سے بچانے کے لیے مل کرآگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور ہر ملک کو اس میں بھرپور تیاری کے ساتھ حصہ لینا ہوگا۔

عرب اقوام کی قومی سلامتی

اماراتی ولی عہد کا کہنا تھا کہ عرب اقوام کی قومی سلامتی کسی ایک ملک کی تنہا ذمہ داری نہیں بلکہ یہ سب کا مشترکہ فرض ہے۔یمن میں حوثیوں کی بغاوت کسی ایک ملک کے خطرہ نہیں بلکہ تمام عرب اقوام کی بقاء کا مسئلہ تھا۔ عرب اقوام کو درپیش دہشت گردی کے خطرات کا تدرارک مشترکہ حکمت عملی اور مہم جوئی سے ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات خطے کے ممالک اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمن میں قیام امن کی بحالی کے لیے کام کرے گا۔ الشیخ محمد بن زاید کا کہنا تھا کہ یمنی قوم کو دہشت گردی اور حوثیوں کی بغاوت سے نجات دلانے کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ یمن میں حوثیوں کے خلاف ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ آپریشن کی کامیابی کے بعد ’’بحالی امید‘‘ آپریشن کو بھی کامیاب اور نتیجہ خیز بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یمن کی تعمیر وترقی ہم سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ اس کے قدرتی وسائل کا دفاع بھی ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ یمن میں سیاسی استحکام اور معاشی خوش حالی کا حصول ہی بحالی امید آپریشن کی کامیابی ثابت ہوگی۔

بحالی امید دفاع کا نیا باب

الشیخ محمد بن زاید کا کہنا تھا کہ ’’یمن میں بحالی امید آپریشن کے ذریعے ہم خطے کو درپیش خطرات کی روک تھام کے ایک نئے باب میں داخل ہوگئے ہیں۔ یمن میں پیدا ہونے والی افسوسناک صورت حال میں ہمارے لیے غیر جانب دار رہنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ہمیں مل کر اس خطرے کا تدارک کرنا تھا۔ یمن میں فوجی آپریشن سے بچنے کے لیے دیگر تمام پرامن پہلوئوں کو استعمال کرنے کی بھریور کوشش کی گئی۔ یمن میں سیاسی استحکام، امن وامان اور ترقی کے لیے ہرسطح پر مساعی کی گئیں مگرحوثی شدت پسندوں کی جانب سے ہر پرامن کوشش کا جواب شدت پسندی سے دیا گیا جس کے بعد فوجی آپریشن کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ فوجی آپریشن کے اہداف حاصل ہونے کے بعد ایک بار پھر امن و امان و امان کے قیام، آئینی حکومت کی بحالی اور ترقی وخوشحالی کے لیے ’’بحالی امید‘‘ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔

انہوں نے خطے میں تیزی کے ساتھ بدلتے حالات میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ویژن اور ان کے فیصلوں کو سراہا اور کہا کہ شاہ سلمان کا عزم ہم سب کے لیے عملی نمونہ ہے۔ شاہ سلمان نے یمن کی ایک شدت پسند گروپ کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ کرکے عرب اقوام کی عزت و وقار میں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت میں عرب اقوام تیزی کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کریں گی۔